لندن +ریاض: جمعرات کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ قیمتوں میں یہ تیزی تب دیکھی گئی جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے کے جوابی ردعمل میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
اس نئی پیش رفت نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جن کے تحت سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے منتظر تھے۔
قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ:
برینٹ خام تیل: 3.51 ڈالر (3.72 فیصد) اضافے کے بعد 97.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
برینٹ (اگست معاہدہ): فعال معاہدے کی قیمت 3.35 ڈالر اضافے کے ساتھ 95.6 ڈالر فی بیرل رہی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): اس کی قیمت 3.31 ڈالر (3.73 فیصد) اضافے کے ساتھ 91.99 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری سیشن کے دوران دونوں اہم بینچ مارکس (برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی) میں 5 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کی وجہ سرمایہ کاروں کا یہ قیاس تھا کہ خطے میں تناؤ کم ہو رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی پٹرولیم انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 2.8 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب امریکی ذخائر میں کمی دیکھی گئی ہے، جو کہ طلب میں اضافے اور رسد میں تنگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور ذخائر میں تسلسل کے ساتھ کمی نے عالمی منڈی میں تیل کے سوداگروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں قیمتوں کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

