ریاض+لندن: جمعرات کے روز سونے کی عالمی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد پیلی دھات کے نرخ گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کے بجائے دیگر محفوظ اثاثوں کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے۔
مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:
اسپاٹ گولڈ: 1.7 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 4,380.62 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو کہ 26 مارچ کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی گولڈ فیوچرز: ان میں بھی 1.6 فیصد کی تنزلی ریکارڈ کی گئی اور یہ 4,377.10 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کے ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے سونے کی قیمت پر منفی اثر پڑا ہے، کیونکہ ڈالر کے مہنگا ہونے سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا خریدنا مہنگا ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور امن مذاکرات کے حوالے سے چھائی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے عالمی معاشی منظرنامے کو الجھا دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سیاسی حالات کے پیشِ نظر سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے سونے جیسی سرمایہ کاری پر دباؤ برقرار ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ڈالر کی قدر میں استحکام نہیں آتا، تب تک سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ موجود ہے۔

