تہران :ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب صبح سویرے ہونے والے امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملے کے رد عمل میں پاسداران انقلاب نے اُس امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔ ’آج امریکی فوج کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے کے بعد، صبح چار بج کر 50 منٹ پر اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تھا۔‘
خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’یہ جواب ایک سنجیدہ تنبیہ ہے تاکہ دشمن جان لے کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، اور اگر اسے دہرایا گیا تو ہمارا رد عمل زیادہ فیصلہ کن ہو گا۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر ہو گی۔
ایرانی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملے کے رد عمل میں پاسداران انقلاب نے اُس امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔
پاسداران انقلاب کا بیان خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا۔ اس کے مطابق ’آج امریکی فوج کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے کے بعد، صبح چار بج کر 50 منٹ پر اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تھا۔خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’یہ جواب ایک سنجیدہ تنبیہ ہے تاکہ دشمن جان لے کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، اور اگر اسے دہرایا گیا تو ہمارا رد عمل زیادہ فیصلہ کن ہو گا۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر ہو گی۔
تتصدى حالياً الدفاعات الجوية الكويتية لهجمات صاروخية وطائرات مسيرة معادية.
تنوه رئاسة الأركان العامة للجيش أن أصوات الانفجارات إن سمعت فهي نتيجة اعتراض منظومات الدفاع الجوي للهجمات المعادية.
يرجى من الجميع التقيد بتعليمات الأمن والسلامة الصادرة عن الجهات المختصة.… pic.twitter.com/qvsBXZxokq
— KUWAIT ARMY – الجيش الكويتي (@KuwaitArmyGHQ) May 28, 2026
کویتی فوج کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا ہے کہ ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔پاکستانی وقت کے مطابق صبح سات بج کر 40 منٹ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ نے آبنائے خلیج فارس اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں اس ادارے کے قیام کو پاسداران انقلاب کی جانب سے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز بند کیے جانے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے بعد جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کے لیے اس ادارے کو قائم کیا تھا۔ایک بیان میں آبنائے خلیج فارس اتھارٹی نے آبنائے ہرمز میں ’نگرانی کے دائرہ کار‘ کا نقشہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس علاقے میں آمد و رفت ’اس ادارے کے ساتھ ہم آہنگی سے مشروط‘ ہے۔
اس بیان کے مطابق یہ دائرہ کار آبنائے کے مشرق میں ’ایران کے کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی فجیرہ کو ملانے والی لکیر‘ سے لے کر مغرب میں ’ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے اور متحدہ عرب امارات کے ام القیوین کو ملانے والی لکیر‘ تک پھیلا ہوا ہے۔

