روم: لگژری اسپورٹس کار بنانے والی مشہور اطالوی کمپنی فراری نے اپنی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی متعارف کروا کر آٹوموبائل انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس کار کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 15 کروڑ پاکستانی روپے) مقرر کی گئی ہے۔
فراری کا یہ نیا ماڈل، جسے ‘لوس’ (Luce) کا نام دیا گیا ہے، کمپنی کی روایتی ڈیزائن کی حکمت عملی سے بالکل مختلف ہے۔ یہ پہلی فراری کار ہے جس میں پانچ نشستوں (5-seater) کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس گاڑی کو ایپل کے سابق چیف ڈیزائنر سر جونی آئیو کی ایجنسی ‘لوو فرام’ (LoveFrom) کے اشتراک سے پانچ سال کی طویل محنت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔
فراری کے چیف ایگزیکٹو بینیڈیٹو وگنا کا کہنا ہے کہ اطالوی زبان میں ‘لوس’ کا مطلب ‘روشنی’ ہے، جو اس گاڑی کے جدید تصور کو ظاہر کرتی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے یہ کار بے حد طاقتور ہے؛ اس کے ہر پہیے میں فراری کی اپنی تیار کردہ موٹر نصب کی گئی ہے، جو اسے صرف ڈھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچانے کی صلاحیت دیتی ہے۔
اس گاڑی کی رونمائی کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ اس کے جدید ڈیزائن کو ایک ‘ماسٹر کلاس’ قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ روایتی شائقین اسے فراری کی پہچان سے ہٹ کر ‘ردی’ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کمپنی کے چیف ڈیزائن افسر فلیویو منزونی نے ناقدین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "کسی بھی بڑی جدت پر اختلاف رائے فطری ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ وقت کے ساتھ لوگ اس ڈیزائن کو پسند کریں گے۔”
فراری کا یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دیگر حریف کمپنیاں الیکٹرک گاڑیوں (EV) کے منصوبوں سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ پورشے نے کم طلب اور عالمی تجارتی مسائل کی وجہ سے اپنے ای وی منصوبے محدود کر دیے ہیں، جبکہ لیمبورگنی نے ہائبرڈ ماڈلز پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ اسپیڈ، فراری کی پہلی الیکٹرک گاڑی ’لوس‘ لانچ ، قیمت اور خصوصیات جانئیے


