بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب)شتر بے مہار ایرانی سمگلنگ شدہ پٹرول کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کردیا گیا ایک بار بھر ایرانی پٹرول کی قیمت میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایرانی بارڈر کی مسلسل دو روز سے بندش کی وجہ سے ایرانی پٹرول کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف اضلاع میں پٹرول کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔پنجگور، تربت اور بلوچستان کے کئی سرحدی اضلاع میں ایرانی پٹرول کی فی لیٹر قیمت 330 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور مستونگ سمیت دیگر علاقوں میں پٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
مقامی پٹرول پمپ مالکان نے اب تک اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔ صوبے کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کاروباری و روزمرہ نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔
کوئٹہ کی شہریوں کی وزیراعلی بلوچستان سے اپیل کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول معافیاں کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کاروائیوں کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات کو ایرانی پیٹرول والوں نے ہوا میں اڑا دیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے کئی دنوں سے کاروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اس کے باوجود ایرانی پیٹرول 330 اور 350 روپے فروخت ہو رہا ہے اس طرح لگتا ہے کہ ایرانی پیٹرول والے حکومت اور انتظامیہ سے بھی زیادہ طاقتور ہیں یا پھر کوئٹہ کے عوام کے عزاب کو پس پشت ڈال کر اپنے جیب بھرنے کا سلسلہ جاری ہے آخر کچھ تو ہے کہ کئی دن کی کاروائیوں کے باوجود ایرانی پیٹرول سستا ہونے کے بجائے دن بدن مہنگا ہوتا جا رہا ہے کوئٹہ کے شہریوں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی پیٹرول معافیاں کی لوٹ مار سے عوام کو نجات دلائی جائے

