واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن قوانین میں انتہائی سخت تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب امریکا میں مستقل رہائش یا ‘گرین کارڈ’ کے خواہشمند غیر ملکیوں کو گرین کارڈ کے حصول کے لیے اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا۔ اس فیصلے نے تارکینِ وطن، ویزا ہولڈرز اور امیگریشن وکلاء میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
نصف صدی کا قصہ
امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پچھلی نصف صدی سے زائد عرصے سے یہ سہولت موجود تھی کہ امریکا میں قانونی طور پر مقیم افراد (جیسے کہ طلبہ، ورک ویزا ہولڈرز اور امریکی شہریوں کے شریکِ حیات) ملک کے اندر رہتے ہوئے ہی اپنے گرین کارڈ کی درخواست کا عمل مکمل کر سکتے تھے۔ تاہم، امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن (USCIS) نے اب اس طریقہ کار کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب مستقل رہائش کے اہل بننے کے لیے درخواست گزار کا اپنے ملک واپس جانا لازمی ہوگا۔
امریکی حکام نے اس سخت فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاحتی، تعلیمی یا ورک ویزے ایک مخصوص مدت اور مقصد کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "کسی بھی شخص کا عارضی سفر گرین کارڈ کے حصول کا پہلا زینہ نہیں ہونا چاہیے۔” حکام کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد مستقل رہائش حاصل کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرنا ہے، کیونکہ یہی لوگ آگے چل کر امریکی شہریت کے حصول کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
امیگریشن وکلاء اور ماہرینِ قانون نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ڈاکٹرز، انجینیئرز اور امریکی شہریوں کے شریکِ حیات سمیت ہزاروں افراد متاثر ہوں گے۔
جن ممالک میں امریکی سفارت خانے بند ہیں (جیسے افغانستان)، وہاں کے شہریوں کے لیے واپس جانا اور دوبارہ انٹرویو کا عمل مکمل کرنا ناممکن ہو سکتا ہے۔
بہت سے امریکی سفارت خانوں میں انٹرویو کا انتظار ایک سال سے زائد ہے، جس سے درخواست گزاروں کے لیے شدید مالی اور ذہنی مشکلات پیدا ہوں گی۔
حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ قانون ان افراد پر بھی لاگو ہوگا جن کی درخواستیں پہلے ہی زیرِ التوا ہیں، جس کی وجہ سے تارکینِ وطن میں شدید خوف اور الجھن پائی جاتی ہے۔
محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ صرف ‘غیر معمولی حالات’ میں ہی کسی کو امریکا میں رہ کر عمل مکمل کرنے کی اجازت دی جائے گی، جس کا فیصلہ افسران انفرادی کیسز کے میرٹ پر کریں گے۔ تاہم، ای میل میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ صرف ان افراد کو رعایت مل سکتی ہے جو امریکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہوں یا جن کا یہاں رکنا ‘قومی مفاد’ میں ہو۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کی ایک اور بڑی کڑی ہے، جس کے بعد تارکینِ وطن میں قانونی راستے اختیار کرنے کے بجائے غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔
امریکا میں گرین کارڈ کا حصول ناممکن بنا دیا گیا: نئی پالیسی متعارف، درخواست گزاروں کو آبائی وطن واپس جانا پڑے گا

