HIV بیورو چیف ملتان مہر آصف کی رپورٹ کے مطابق،نشتَر اسپتال میں
پازیٹو مریض کے آپریشن کے معاملے نے ایک بار پھر اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مریض کا آپریشن لازمی HIV اسکریننگ مکمل ہونے سے پہلے کیا گیا، جبکہ بعد میں اس کی رپورٹ مثبت آگئی۔ اس واقعے کے بعد ڈاکٹرز اور طبی عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک جونیئر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر آپریشن سے قبل HIV رپورٹ نہ ہونے پر اعتراض کیا تھا، تاہم اس کے باوجود سرجری جاری رکھی گئی۔ بعد ازاں اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد آپریشن تھیٹر کو دوبارہ ڈس انفیکٹ کیا گیا جبکہ متعلقہ عملے کے PCR ٹیسٹ بھی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے ابتدائی طور پر کئی ڈاکٹرز اور عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔یہ معاملہ اس لیے بھی حساس تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی Nishtar Medical University کے ڈائیلاسز یونٹ میں HIV منتقلی کا اسکینڈل سامنے آچکا ہے، جہاں تحقیقات میں SOPs کی سنگین خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئی تھیں۔

