پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ کیسے شامل ہونے لگایہ ایک سنگین خطرہ کیوں ہے؟
عامر شہزاد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے صنعتی علاقے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کے نزدیک کلمہ چوک کے رہائشی اور دیہاڑی دار مزدور ہیں۔
ان کے پانچ بچے اکثر بیمار رہتے ہیں مگر آٹھ سالہ طوبی شہزادی کو گذشتہ ایک سال سے جسمانی صحت کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عامر شہزاد کا کہنا تھا کہ طوبی کچھ عرصہ پہلے تک ٹھیک تھی۔ یہ ہمارے گھر کی رونق ہے، گذشتہ ایک سال سے پتا نہیں کیا ہوا کہ انتہائی بیمار رہنے لگی ہے۔ نہ کسی سے بات کرتی ہے، نہ ہنستی کھیلتی ہے، پڑھائی بہت دلچسپی سے کرتی تھی مگر وہ سلسلہ بھی رک گیا۔
ڈاکٹر کہتا ہے کہ اس کی دماغی نشونما رک گئی ہے۔ انھوں نے دوائیں دی ہیں اور کہا ہے کہ اس کو صاف پانی پلائیں، ایسی خوراک اور پانی دیں جس میں آلودگی اور سیسہ نہ ہو۔
عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ کیا پتا کس پانی اور خوراک میں سیسہ یا آلودگی ہے۔ سرکاری نل کا پانی پیتے ہیں اور بازار سے سبزیاں خریدتے ہیں۔
حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے بچوں کی فلاح و بہبود کے ادارے یونسیف اور پاکستان کی وفاقی وزارت صحت کی جانب سے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی گئی جس کے مطابق پاکستان کے صنعتی علاقوں میں رہنے والے بچوں میں سیسے کی بلند سطح پائی جاتی ہے جو صحت کا ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے میں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح پائی گئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ شرح بہت کم ہے۔
اس رپورٹ پر خیبر پختونخواہ میں ماحولیاتی تحفظ کے ادارے انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) کے ڈائریکٹر محمد افسر کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد انھوں نے پشاور سے ایک تحقیقاتی ٹیم مقرر کی گئی ہے جو حطار جا کر صورتحال کا جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق یہ ٹیم مختلف ٹیسٹ بھی کرے گی۔
ہری پور کے ڈسڑکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر محسن رضا ترابی کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور یونیسیف کی اس تحقیق کا مقصد مستقبل کی پالیسیاں مرتب کرنا ہے۔
ان کے مطابق ابھی ایک اور تحقیقاتی رپورٹ بھی تیار کی جائے گی جس کا مقصد ذریعے صنعتی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو سیسے سمیت دیگر آلودگیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پالیساں مرتب کرنے میں مدد دینا ہے۔
یونیسیف اور وزارت صحت کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
مواد پر جائیں
یونسیف اور وزارتِ قومی صحت نے پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی کو خطرہ قرار دیا ہے۔

