لاہور: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ‘پیرا’ فورس کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ اور احتساب کا نیا فریم ورک جاری کر دیا ہے۔ اجلاس میں غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث اہلکاروں کے لیے سزائیں سخت کرنے کے ساتھ ساتھ فورس کی آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیرِ اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عوام کو ہراساں کرنے والے اہلکار اب بچ نہیں سکیں گے۔
اختیارات کے ناجائز استعمال پر اب 3 دن کی ڈٹینشن کے بجائے 3 سال قید کی سزا بھگتنی پڑ سکتی ہے۔
فورس کے 4 ہزار افسران و اہلکاروں کی فوری سکروٹنی کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اب تک ڈسپلن کی خلاف ورزی پر 1356 انکوائریاں ہو چکی ہیں، جن میں سے 304 کو سزائیں دی گئیں اور 7 اہلکاروں کو فارغ کرنے کا عمل جاری ہے۔
مریم نواز نے ‘انٹرنل انٹیلی جنس’ اور ‘وسل بلور’ سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مشکوک شہرت والے افسران کو فوری طور پر ان کے اصل محکموں میں واپس بھیجا جا سکے۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فورس کو ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے:30 جون تک تمام فیلڈ اہلکاروں کے لیے باڈی کیمرے نصب کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
PERA 360 15 سے زائد سافٹ ویئرز کو یکجا کر کے ایک مرکزی ڈیش بورڈ بنایا جا رہا ہے جہاں تمام چالان ڈیجیٹل ہوں گے۔
97 بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی بدولت سزا کی شرح (Conviction Rate) 97 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اجلاس میں ‘پیرا’ کی حالیہ کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی گئی تجاوزات کے خلاف آپریشن میں اب تک 9036 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے۔
گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 6557 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 2 کروڑ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
وزیرِ اعلیٰ کی پالیسی کے تحت فوری پرچے کے بجائے اصلاح پر زور دیا گیا، جس کے باعث 2 لاکھ سے زائد چھاپوں میں صرف 439 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
ISO پیرا فورس نے اپنی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر عالمی ISO سرٹیفیکیشن بھی حاصل کر لی ہے۔
فورس کی پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے ٹریننگ کے نئے مراحل شروع کیے جا رہے ہیں:آفیسرز کو 1122 اور پی ٹی سی چوہنگ میں تربیت دی جائے گی۔
PAS یکم جون سے ایس ڈی او پیرا کی پنجاب ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) ٹریننگ کا آغاز ہوگا۔
مریم نواز شریف نے کلر کہار یا مری میں پیرا کی اپنی ٹریننگ اکیڈمی ایک سال کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ "پبلک سروس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پیرا ایک ڈیڈیکیٹڈ فورس ہے جس کا بنیادی کام صرف ریگولیشن ہے۔ جو اہلکار کرپشن میں پکڑا جائے، اسے دوسروں کے لیے عبرت کی مثال بنا دیا جائے۔” —
جون کے آخر تک مجموعی طور پر 7 ہزار اہلکاروں کی بھرتی مکمل کر لی جائے گی اور بقیہ تمام انفورسمنٹ اسٹیشنز کو بھی فعال کر دیا جائے گا۔

