Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      لاہور اور فیصل آباد سے بڑی شروعات؛ کیا آپ کی گاڑی بھی 20 سال پرانی ہے؟

      جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند ہو جائیں گے!

      جعلی ،غیر قانونی اشیا فروخت کرنے پر علی ایکسپریس پر ریکارڈ 550 ملین یورو کا جرمانہ

      پاکستانی فری لانسرز کا شاندار کارنامہ؛ تین سال میں کتنے ارب ڈالر کمائے؟

      اینڈرائیڈ 16 سیکیورٹی خامی کی نشاندہی، گوگل کی تصدیق

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل: پاکستان میں صحتِ عامہ کی مؤثر اور معتبر آواز

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان میں صحتِ عامہ کے شعبے میں چند ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے تحقیق، تدریس اور عملی خدمات کو یکجا کر کے حقیقی اثر ڈالا۔ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل انہی نمایاں ناموں میں شامل ہیں۔ وہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (IPH) لاہور کی ڈین رہ چکی ہیں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں کمیونٹی میڈیسن کی ممتاز پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ ماہرِ وبائیات کی حیثیت سے ان کی پیشہ ورانہ زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ صحت کے شعبے میں پائیدار تبدیلی کے لیے علم، تحقیق اور فیلڈ ورک کا امتزاج ناگزیر ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی طبی تعلیم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے حاصل کی، بعد ازاں انٹرنل میڈیسن میں تخصص کیا، اور پھر پبلک ہیلتھ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ امریکہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ نے ان کے تحقیقی وژن کو مزید وسعت دی۔ وہ بین الاقوامی اداروں، خصوصاً Johns Hopkins سمیت دیگر جامعات سے تربیت اور تحقیقاتی اشتراک کے ذریعے عالمی سطح پر بھی اپنی علمی شناخت مستحکم کر چکی ہیں۔
    بطور پروفیسر آف کمیونٹی میڈیسن، انہوں نے تدریسی میدان میں نمایاں خدمات کے ساتھ ساتھ تحقیق میں بھی اہم اضافہ کیا۔ ان کے 50 سے زائد تحقیقی مقالے مستند قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 70 سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی تحقیق کا دائرہ وبائی امراض، ماحولیاتی صحت، ماں اور بچے کی صحت، اور پبلک ہیلتھ پالیسی تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ پی ایچ ڈی سپروائزر کی حیثیت سے بھی متعدد اسکالرز کی رہنمائی کر چکی ہیں اور برطانیہ و امریکہ کے اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں شریک رہی ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں بطور ڈین، ان کا کردار محض انتظامی نہیں بلکہ پالیسی سازی سے جڑا ہوا رہا۔ انہوں نے ویکسینیشن مہمات، کمیونٹی ہیلتھ آگاہی، اور صحت کی حکمت عملیوں کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں ادارہ تعلیمی و عملی دونوں حوالوں سے مستحکم ہوا، خاص طور پر ایسے ادوار میں جب ملک کو وبائی امراض اور ہنگامی حالات کا سامنا تھا۔
    کورونا وبا کے دوران ان کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ مختلف تکنیکی و مشاورتی گروپس کی رکن رہیں اور حکومت کے لیے ایس او پیز اور رہنما اصولوں کی تیاری میں شریک ہوئیں۔ اسی طرح پولیو، ڈینگی اور دیگر وباؤں کے تدارک کے لیے حکمت عملیوں میں بھی ان کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ قدرتی آفات کے دوران صحت کے نظام کو فعال رکھنے اور کمیونٹی رسپانس کو بہتر بنانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔
    بین الاقوامی سطح پر بھی وہ ایک سنجیدہ پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے UNICEF سمیت مختلف عالمی اداروں کے ساتھ تکنیکی مشاورت کی اور امریکی جامعات کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں حصہ لیا۔ یہ عالمی روابط پاکستان کے صحت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ان کی ذاتی زندگی بھی علمی و پیشہ ورانہ ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ ان کے شوہر، پروفیسر ڈاکٹر محمد مستحسن بشیر، پلاسٹک سرجری کے شعبے سے وابستہ ایک ممتاز معالج ہیں، جو اس خاندان کی طبی روایت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ بطور مبصر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ڈاکٹر سائرہ افضل پاکستان میں پبلک ہیلتھ کے ایک ایسے جدید بیانیے کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں تحقیق، پالیسی اور عملی اقدامات ایک مربوط نظام کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف انفرادی کامیابی کی علامت ہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی سوچ کی نمائندگی بھی کرتی ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کے صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    Related Posts

    وزیراعلیٰ مریم نواز کے بروقت اقدامات؛ ریکارڈ بارشوں کے باوجود پنجاب کے شہروں میں گھنٹوں کے اندر نکاسی آب مکمل

    شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ، لواحقین کی ہر ممکن فلاح و بہبود ترجیح ہے، ڈی آئی جی فیصل بشیر میمن کا بے نقاب نیوز کوانٹرویو

    ڈی سی نے نالہ ڈیک میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا

    مقبول خبریں

    شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ، لواحقین کی ہر ممکن فلاح و بہبود ترجیح ہے، ڈی آئی جی فیصل بشیر میمن کا بے نقاب نیوز کوانٹرویو

    بینرز پرانوکھے نعرے؛ احتجاج میں شریک طلبا کے تخلیقی انداز نے عوام کے دل جیت لیے

    آنسو گیس اور لاٹھی چارج بھی ننھے مظاہرین کے حوصلے نہ توڑ سکا؛ طلبا کی جرات نے سب کو دنگ کر دیا

    ملتان: دیگر صوبوں سے آنیوالی منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی، طلباء کو فروخت کرنے کا انکشاف

    سونے کی بڑی چھلانگ، چاندی بھی مہنگی

    بلاگ

    شدید بارشیں ،سیلاب کا امکان اوراحتیاطی تدابیر

      پولٹری فارمنگ کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانا

    اور:-شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

    تحفظ کی اپیل سے قتل تک ایک جان جو بچائی جا سکتی تھی

    ایران، امریکہ جنگ اوراسرائیل

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.