Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

      چین کی الیکٹرک گاڑی نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا؛ رفتار 503 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی

      ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

      واٹس ایپ صارفین کیلئے جادو کا چراغ بن گیا، بڑی سہولت متعارف

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل: پاکستان میں صحتِ عامہ کی مؤثر اور معتبر آواز

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان میں صحتِ عامہ کے شعبے میں چند ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے تحقیق، تدریس اور عملی خدمات کو یکجا کر کے حقیقی اثر ڈالا۔ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل انہی نمایاں ناموں میں شامل ہیں۔ وہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (IPH) لاہور کی ڈین رہ چکی ہیں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں کمیونٹی میڈیسن کی ممتاز پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ ماہرِ وبائیات کی حیثیت سے ان کی پیشہ ورانہ زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ صحت کے شعبے میں پائیدار تبدیلی کے لیے علم، تحقیق اور فیلڈ ورک کا امتزاج ناگزیر ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی طبی تعلیم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے حاصل کی، بعد ازاں انٹرنل میڈیسن میں تخصص کیا، اور پھر پبلک ہیلتھ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ امریکہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ نے ان کے تحقیقی وژن کو مزید وسعت دی۔ وہ بین الاقوامی اداروں، خصوصاً Johns Hopkins سمیت دیگر جامعات سے تربیت اور تحقیقاتی اشتراک کے ذریعے عالمی سطح پر بھی اپنی علمی شناخت مستحکم کر چکی ہیں۔
    بطور پروفیسر آف کمیونٹی میڈیسن، انہوں نے تدریسی میدان میں نمایاں خدمات کے ساتھ ساتھ تحقیق میں بھی اہم اضافہ کیا۔ ان کے 50 سے زائد تحقیقی مقالے مستند قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 70 سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی تحقیق کا دائرہ وبائی امراض، ماحولیاتی صحت، ماں اور بچے کی صحت، اور پبلک ہیلتھ پالیسی تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ پی ایچ ڈی سپروائزر کی حیثیت سے بھی متعدد اسکالرز کی رہنمائی کر چکی ہیں اور برطانیہ و امریکہ کے اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں شریک رہی ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں بطور ڈین، ان کا کردار محض انتظامی نہیں بلکہ پالیسی سازی سے جڑا ہوا رہا۔ انہوں نے ویکسینیشن مہمات، کمیونٹی ہیلتھ آگاہی، اور صحت کی حکمت عملیوں کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں ادارہ تعلیمی و عملی دونوں حوالوں سے مستحکم ہوا، خاص طور پر ایسے ادوار میں جب ملک کو وبائی امراض اور ہنگامی حالات کا سامنا تھا۔
    کورونا وبا کے دوران ان کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ مختلف تکنیکی و مشاورتی گروپس کی رکن رہیں اور حکومت کے لیے ایس او پیز اور رہنما اصولوں کی تیاری میں شریک ہوئیں۔ اسی طرح پولیو، ڈینگی اور دیگر وباؤں کے تدارک کے لیے حکمت عملیوں میں بھی ان کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ قدرتی آفات کے دوران صحت کے نظام کو فعال رکھنے اور کمیونٹی رسپانس کو بہتر بنانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔
    بین الاقوامی سطح پر بھی وہ ایک سنجیدہ پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے UNICEF سمیت مختلف عالمی اداروں کے ساتھ تکنیکی مشاورت کی اور امریکی جامعات کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں حصہ لیا۔ یہ عالمی روابط پاکستان کے صحت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ان کی ذاتی زندگی بھی علمی و پیشہ ورانہ ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ ان کے شوہر، پروفیسر ڈاکٹر محمد مستحسن بشیر، پلاسٹک سرجری کے شعبے سے وابستہ ایک ممتاز معالج ہیں، جو اس خاندان کی طبی روایت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ بطور مبصر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ڈاکٹر سائرہ افضل پاکستان میں پبلک ہیلتھ کے ایک ایسے جدید بیانیے کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں تحقیق، پالیسی اور عملی اقدامات ایک مربوط نظام کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف انفرادی کامیابی کی علامت ہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی سوچ کی نمائندگی بھی کرتی ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کے صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    Related Posts

    کراچی: کلفٹن میں گھریلو تنازع، باپ نے کمسن بیٹے کو قتل کرکے خودکشی کرلی

     پانی کے نظام پر حملوں میں تین گنا اضافہ، انسانی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق،  رانا بشارت علی خان

    سانگھڑ: پلاٹ کے تنازع پر نظامانی برادری میں مسلح جھگڑا، نوجوان جاں بحق، دو زخمی

    مقبول خبریں

    کراچی: کلفٹن میں گھریلو تنازع، باپ نے کمسن بیٹے کو قتل کرکے خودکشی کرلی

    سانگھڑ: پلاٹ کے تنازع پر نظامانی برادری میں مسلح جھگڑا، نوجوان جاں بحق، دو زخمی

    مٹیاری: شگر مل روڈ پر ٹریفک حادثہ، کمسن بچہ جاں بحق، 3 افراد شدید زخمی

    شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

    چار بوگیوں میں آتشزدگی،مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی

    بلاگ

    دیوالی: روشنی، خوشیوں، محبت اور امید کا عظیم تہوار

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.