تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

بطور پروفیسر آف کمیونٹی میڈیسن، انہوں نے تدریسی میدان میں نمایاں خدمات کے ساتھ ساتھ تحقیق میں بھی اہم اضافہ کیا۔ ان کے 50 سے زائد تحقیقی مقالے مستند قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 70 سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی تحقیق کا دائرہ وبائی امراض، ماحولیاتی صحت، ماں اور بچے کی صحت، اور پبلک ہیلتھ پالیسی تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ پی ایچ ڈی سپروائزر کی حیثیت سے بھی متعدد اسکالرز کی رہنمائی کر چکی ہیں اور برطانیہ و امریکہ کے اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں شریک رہی ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں بطور ڈین، ان کا کردار محض انتظامی نہیں بلکہ پالیسی سازی سے جڑا ہوا رہا۔ انہوں نے ویکسینیشن مہمات، کمیونٹی ہیلتھ آگاہی، اور صحت کی حکمت عملیوں کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں ادارہ تعلیمی و عملی دونوں حوالوں سے مستحکم ہوا، خاص طور پر ایسے ادوار میں جب ملک کو وبائی امراض اور ہنگامی حالات کا سامنا تھا۔
کورونا وبا کے دوران ان کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ مختلف تکنیکی و مشاورتی گروپس کی رکن رہیں اور حکومت کے لیے ایس او پیز اور رہنما اصولوں کی تیاری میں شریک ہوئیں۔ اسی طرح پولیو، ڈینگی اور دیگر وباؤں کے تدارک کے لیے حکمت عملیوں میں بھی ان کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ قدرتی آفات کے دوران صحت کے نظام کو فعال رکھنے اور کمیونٹی رسپانس کو بہتر بنانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی وہ ایک سنجیدہ پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے UNICEF سمیت مختلف عالمی اداروں کے ساتھ تکنیکی مشاورت کی اور امریکی جامعات کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں حصہ لیا۔ یہ عالمی روابط پاکستان کے صحت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ان کی ذاتی زندگی بھی علمی و پیشہ ورانہ ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ ان کے شوہر، پروفیسر ڈاکٹر محمد مستحسن بشیر، پلاسٹک سرجری کے شعبے سے وابستہ ایک ممتاز معالج ہیں، جو اس خاندان کی طبی روایت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ بطور مبصر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ڈاکٹر سائرہ افضل پاکستان میں پبلک ہیلتھ کے ایک ایسے جدید بیانیے کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں تحقیق، پالیسی اور عملی اقدامات ایک مربوط نظام کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف انفرادی کامیابی کی علامت ہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی سوچ کی نمائندگی بھی کرتی ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کے صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل: پاکستان میں صحتِ عامہ کی مؤثر اور معتبر آواز

