Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سستا ایندھن، جدید ٹیکنالوجی: چیری ماسٹر کا پاکستان میں 13 نئے ماڈلز اور الیکٹرک گاڑی ‘کیو کیو’ لانے کا اعلان

      روبوٹ بنا مسافر طیارے کی ایک گھنٹہ تاخیر کا باعث

      میڈیا کی دنیا کا ایک عہد تمام: سی این این کے بانی اور عظیم مخیر ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

      6000 کلومیٹررینج، 25 ماخ سپیڈ، ترکئیے نے اپنا پہلا بین البراعظمی میزائل متعارف کرادیا

      واٹس ایپ کا مخصوص آئی فون ڈیوائسز کی سپورٹ ختم کرنیکا فیصلہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل: پاکستان میں صحتِ عامہ کی مؤثر اور معتبر آواز

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان میں صحتِ عامہ کے شعبے میں چند ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے تحقیق، تدریس اور عملی خدمات کو یکجا کر کے حقیقی اثر ڈالا۔ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل انہی نمایاں ناموں میں شامل ہیں۔ وہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (IPH) لاہور کی ڈین رہ چکی ہیں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں کمیونٹی میڈیسن کی ممتاز پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ ماہرِ وبائیات کی حیثیت سے ان کی پیشہ ورانہ زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ صحت کے شعبے میں پائیدار تبدیلی کے لیے علم، تحقیق اور فیلڈ ورک کا امتزاج ناگزیر ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی طبی تعلیم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے حاصل کی، بعد ازاں انٹرنل میڈیسن میں تخصص کیا، اور پھر پبلک ہیلتھ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ امریکہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ نے ان کے تحقیقی وژن کو مزید وسعت دی۔ وہ بین الاقوامی اداروں، خصوصاً Johns Hopkins سمیت دیگر جامعات سے تربیت اور تحقیقاتی اشتراک کے ذریعے عالمی سطح پر بھی اپنی علمی شناخت مستحکم کر چکی ہیں۔
    بطور پروفیسر آف کمیونٹی میڈیسن، انہوں نے تدریسی میدان میں نمایاں خدمات کے ساتھ ساتھ تحقیق میں بھی اہم اضافہ کیا۔ ان کے 50 سے زائد تحقیقی مقالے مستند قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 70 سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی تحقیق کا دائرہ وبائی امراض، ماحولیاتی صحت، ماں اور بچے کی صحت، اور پبلک ہیلتھ پالیسی تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ پی ایچ ڈی سپروائزر کی حیثیت سے بھی متعدد اسکالرز کی رہنمائی کر چکی ہیں اور برطانیہ و امریکہ کے اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں شریک رہی ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں بطور ڈین، ان کا کردار محض انتظامی نہیں بلکہ پالیسی سازی سے جڑا ہوا رہا۔ انہوں نے ویکسینیشن مہمات، کمیونٹی ہیلتھ آگاہی، اور صحت کی حکمت عملیوں کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں ادارہ تعلیمی و عملی دونوں حوالوں سے مستحکم ہوا، خاص طور پر ایسے ادوار میں جب ملک کو وبائی امراض اور ہنگامی حالات کا سامنا تھا۔
    کورونا وبا کے دوران ان کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ مختلف تکنیکی و مشاورتی گروپس کی رکن رہیں اور حکومت کے لیے ایس او پیز اور رہنما اصولوں کی تیاری میں شریک ہوئیں۔ اسی طرح پولیو، ڈینگی اور دیگر وباؤں کے تدارک کے لیے حکمت عملیوں میں بھی ان کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ قدرتی آفات کے دوران صحت کے نظام کو فعال رکھنے اور کمیونٹی رسپانس کو بہتر بنانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔
    بین الاقوامی سطح پر بھی وہ ایک سنجیدہ پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے UNICEF سمیت مختلف عالمی اداروں کے ساتھ تکنیکی مشاورت کی اور امریکی جامعات کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں حصہ لیا۔ یہ عالمی روابط پاکستان کے صحت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ان کی ذاتی زندگی بھی علمی و پیشہ ورانہ ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ ان کے شوہر، پروفیسر ڈاکٹر محمد مستحسن بشیر، پلاسٹک سرجری کے شعبے سے وابستہ ایک ممتاز معالج ہیں، جو اس خاندان کی طبی روایت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ بطور مبصر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ڈاکٹر سائرہ افضل پاکستان میں پبلک ہیلتھ کے ایک ایسے جدید بیانیے کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں تحقیق، پالیسی اور عملی اقدامات ایک مربوط نظام کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف انفرادی کامیابی کی علامت ہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی سوچ کی نمائندگی بھی کرتی ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کے صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    Related Posts

    بھارتی بحریہ کی ہمت نہیں ہوئی کہ ہمارے پانیوں کا رُخ کرے، رئیر ایڈمرل شفاعت علی خان

    اب ہمارا اسکور ” آٹھ صفر“ ہے ، ائیروائس مارشل طارق غازی

    وزیر آباد کا ‘ہٹلر’ سوشل میڈیا پر چھا گیا: پنجاب حکومت کے اشتہار میں نوجوان کا انوکھا نام بحث کا مرکز

    مقبول خبریں

    وزیر آباد کا ‘ہٹلر’ سوشل میڈیا پر چھا گیا: پنجاب حکومت کے اشتہار میں نوجوان کا انوکھا نام بحث کا مرکز

    پنجاب پولیس کے انسپکٹر کا امریکی سفیر کو ‘شاہکار’ تحفہ، واشنگٹن تک دھوم مچ گئی

    ”جب جیلر کو قیدی سے پیار ہوگیا“سلاخوں کے پیچھے انوکھی پریم کہانی: 

    سستا ایندھن، جدید ٹیکنالوجی: چیری ماسٹر کا پاکستان میں 13 نئے ماڈلز اور الیکٹرک گاڑی ‘کیو کیو’ لانے کا اعلان

    کرپٹ اہلکاروں کے لیے رعایت نہیں، اب سیدھا جیل: مریم نواز کا ‘پیرا’ فورس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا حکم

    بلاگ

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    کیا پاکستان میں مارشل لا قریب ہے؟ — ایک محتاط مگر واضح تجزیہ

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    بین الاقوامی منافقت اور دوہرے معیار عالمی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.