ستنا/چھتر پور: ریاست مدھیہ پردیش کے شہر ستنا سے ایک ایسی انوکھی شادی کی خبر سامنے آئی ہے جس نے قانون، معاشرت اور مذہب کی تمام روایتی حدود کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ستنا سینٹرل جیل میں تعینات خاتون ڈپٹی جیلر فیروزہ خاتون نے عمر قید کی سزا کاٹ کر رہا ہونے والے ایک ہندو قیدی دھرمیندر عرف ابھیلاش سے شادی کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔
یہ داستان کسی بالی وڈ فلم سے کم نہیں۔ دھرمیندر، جو چندلا میونسپل کونسل کے نائب صدر کے قتل کے سنگین جرم میں 14 سال کی سزا کاٹ رہا تھا، ستنا سینٹرل جیل میں قید تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ فیروزہ خاتون سے ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، ڈیوٹی کے دوران شروع ہونے والا یہ تعلق آہستہ آہستہ محبت میں بدل گیا، لیکن دونوں نے اسے انتہائی خفیہ رکھا۔
فیروزہ خاتون برسوں تک دھرمیندر کی رہائی کا انتظار کرتی رہیں تاکہ وہ اپنے اس رشتے کو نام دے سکیں۔
دھرمیندر کو 2020 میں اپنی سزا پوری کرنے کے بعد رہا کیا گیا، جس کے بعد اس محبت کو شادی تک پہنچانے کی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔
5 مئی 2026 کو چھتر پور کے علاقے لوکُش نگر کے ایک میریج گارڈن میں اس جوڑے نے شادی کی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ فیروزہ خاتون نے مسلمان ہونے کے باوجود ہندو رسم و رواج کے مطابق دھرمیندر کے ساتھ سات پھیرے لیے۔ یہ بین المذاہب شادی اس وقت پورے علاقے اور جیل مینوئل میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیروزہ خاتون نے دوٹوک الفاظ میں کہا”یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے۔ ہر انسان کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق ہے۔ ہم اس شادی سے بہت خوش ہیں اور ایک نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں۔”
جیل سپرنٹنڈنٹ لینا کوسٹا نے اس حوالے سے بتایا کہ فیروزہ خاتون 10 روز کی چھٹی پر گئی ہوئی ہیں اور ان کی شادی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ دھرمیندر 5 سال قبل اپنی سزا پوری کر کے رہا ہو چکا ہے، اس لیے یہ ان کا مکمل طور پر نجی معاملہ ہے اور محکمہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
اس واقعے نے ایک طرف ‘محبت اندھی ہوتی ہے’ کے مقولے کو سچ ثابت کیا ہے، تو دوسری طرف ایک قانون نافذ کرنے والے افسر اور سابق مجرم کے اس بندھن نے سماج میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

