بخارسٹ: مشرقی یورپی ملک رومانیہ میں معاشی پالیسیوں پر پیدا ہونے والا تنازع حکومت کی رخصتی کا سبب بن گیا۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری کے دوران اپوزیشن اور سابق حکومتی اتحادیوں نے متحد ہو کر وزیراعظم الی بلوجون کے خلاف ووٹ دیا۔
رپورٹس کے مطابق حکومت کو بچانے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ جہاں حکومت گرانے کے لیے 233 ووٹ درکار تھے، وہیں اپوزیشن نے 281 ارکان کی حمایت حاصل کر کے الی بلوجون کو اقتدار سے باہر کر دیا۔ اس سیاسی پیش رفت میں سوشلسٹ پارٹی اور دائیں بازو کے اتحاد نے کلیدی کردار ادا کیا، جنہوں نے حکومتی پالیسیوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کا ساتھ چھوڑ دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم الی بلوجون کی جانب سے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی سخت معاشی اصلاحات اور کفایت شعاری کے اقدامات نے ان کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اتحادی جماعتوں کے درمیان ان پالیسیوں پر پائے جانے والے اختلافات اس وقت بحران میں بدل گئے جب سوشلسٹ پارٹی نے باقاعدہ طور پر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا، جس سے حکومت اقلیت میں آگئی۔
حکومت گرنے کے بعد ملک میں سیاسی بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ صدرِ رومانیہ نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ ملک کو آئینی تعطل سے نکالا جا سکے۔ جب تک نئی کابینہ حلف نہیں اٹھاتی، الی بلوجون بطور عبوری وزیراعظم کام جاری رکھیں گے، تاہم ان کے اختیارات صرف روزمرہ کے معاملات تک محدود ہوں گے اور وہ کوئی بڑا پالیسی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔

