واشنگٹن ڈی سی :امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگزیتھ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکا ایرانی جارحیت سے بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں شروع کیا گیا آپریشن جس کا نام پروجیکٹ فریڈم رکھا گیا ہے، ایک عارضی اقدام ہے۔
پیٹ ہیگزیتھ نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں چاہتا لیکن بحری ٹریفک کو نشانہ بنانے والے کسی بھی ایرانی حملے کا تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
"أي اتفاق يتم التوصل إليه سيضمن عدم امتلاك إيران سلاحًا نوويًا أبدًا”.. هيغسيث: ترمب يملك زمام الأمور ولم يتنازل عن أي شيء pic.twitter.com/N6ZlR1Uj1V
— العربية (@AlArabiya) May 5, 2026
پیٹ ہیگزیتھ نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم محاذ آرائی کے خواہاں نہیں ہیں لیکن ایران کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کہ وہ غیر متعلقہ ممالک اور ان کے سامانِ تجارت کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ عبور کرنے سے روکے۔
انہوں نے ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر آپ نے امریکی افواج یا سویلین تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو آپ کو امریکا کی انتہائی طاقتور اور تباہ کن فائر پاور کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزير الحرب الأميركي بيت هيغسيث: نفرض سيطرتنا على مضيق هرمز وندمر أي شي فوق هذه الزوارق السريعة.. هي لا تحمل سوى أسلحة ضعيفة مثل بنادق ورشاشات صغيرة pic.twitter.com/NnVC9zZN7H
— العربية (@AlArabiya) May 5, 2026
انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے لیکن تہران کو اپنے اقدامات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
فوجی کارروائیوں کی بحالی کے حوالے سے پیٹ ہیگزیتھ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف دوبارہ لڑائی شروع کرنے کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔
دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر اب تک ہونے والے ایرانی حملے اس سطح تک نہیں پہنچے کہ امریکا بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرے۔
رئيس هيئة الأركان الأميركية: هجمات إيران في هرمز حتى الآن لا تتطلب استئناف القتال pic.twitter.com/FTcJFYj07v
— العربية (@AlArabiya) May 5, 2026
اس کے باوجود جنرل کین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احکامات ملے تو ان کی افواج ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
جنرل ڈین کین نے مزید کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ اور دیگر مشترکہ افواج ایران کے خلاف بڑی جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی دشمن ہماری موجودہ تحمل مزاجی کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔

