واشنگٹن/تہران :دنیا کے روایتی میدانِ جنگ میں جہاں بندوقوں کی گرج تھم چکی ہے اور خاموشی چھائی ہے، وہیں سائبر سپیس کے اندھیروں میں ہیکرز نے ایک نئی اور ہولناک جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل کی ایک سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق، ایرانی ہیکرز نے حالیہ مہینوں میں سینکڑوں امریکی فوجی اہلکاروں اور سابق ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو اپنے نشانے پر لے لیا ہے۔
تہران سے وابستہ ہیکر گروپ ‘ہنڈالہ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں تعینات تقریباً 2400 امریکی میرینز کے نام اور ان کی انتہائی حساس ذاتی تفصیلات شائع کر دی ہیں۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان سائبر حملوں کا دائرہ کار صرف فوج تک محدود نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم عہدیداروں کو بھی مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ان حملوں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اب جنگیں سرحدوں سے نکل کر کمپیوٹر اسکرینوں تک پہنچ چکی ہیں۔
وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اس وقت اس ڈیٹا کے افشا ہونے کے بعد پیدا ہونے والے حفاظتی خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
میدانِ جنگ میں سیز فائر ، ڈیجیٹل محاذ پر ایرانی ہیکرز کی یلغار، سینکڑوں امریکی افسران نشانے پر

