واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران امریکی فوجی طیارے کی تباہی کو سفارتی کوششوں کے لیے رکاوٹ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ این بی سی نیوز (NBC News) کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جنگی نقصانات کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوں گے۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا طیارے کے گرنے سے سفارتی عمل متاثر ہوگا، تو انہوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا:
”نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ ایک جنگ ہے اور ہم اس وقت باقاعدہ حالتِ جنگ میں ہیں۔ ایسے واقعات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں اور ان سے مذاکرات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔“
یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف سفارتی آپشنز کو بھی میز پر رکھنا چاہتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے تباہ شدہ طیارے کے عملے اور تلاش و بچاؤ (Search and Rescue) کی کوششوں کے حوالے سے کوئی بھی تفصیل فراہم کرنے سے معذرت کر لی۔ انہوں نے معاملے کی حساسیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک پیچیدہ فوجی آپریشن جاری ہے جس کی تفصیلات عام کرنا مناسب نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ امریکی میڈیا پر کافی برہم نظر آئے۔ انہوں نے فعال فوجی آپریشنز کی کوریج کے طریقہ کار پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو حساس عسکری معاملات کی رپورٹنگ میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ آپریشنز انتہائی پیچیدہ اور جان لیوا ہو سکتے ہیں۔
ہم حالتِ جنگ میں ہیں، طیارے کی تباہی سے مذاکرات نہیں رکیں گے“: صدر ٹرمپ

