Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت

      سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

      ہائیبرڈ گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بڑی خوشخبری، لمبے انتظار کے بعد سیلز ٹیکس میں کمی!

      چینی قونصل جنرل اور علی ڈار کی ملاقات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

       خام تیل کو صاف کرنے کے لیے چینی نئی ٹیکنالوجی تیار

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”سہیل احمد کا المیہ“ توفیق بٹ کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:توفیق بٹ
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    میں جس ٹی وی چینل سے وابستہ ہوں، بعض دوسرے نیوز چینلز کی انتظامیہ بھی اکثر مجھے اپنے ٹاک شوز خاص طور پر ”سیاسی ٹاک شوز“ میں مدعو کرتی ہے، میں نہیں جاتا، میں اُن سے معذرت کر لیتا ہوں، البتہ بعض اوقات کوئی سینئر میری معذرت قبول نہ کرے اُس کی محبت کے سامنے ہتھیار پھیکنا پڑ جاتے ہیں، کچھ ”ٹاک شوز“ باقاعدہ طور پر اب ”ڈاگ شوز“ ہو گئے ہیں، جو سوالات اُن میں کچھ معزز مہمانوں سے پوچھے جاتے ہیں اُن کے جوابات میں پورا کیا آدھا سچ بولنا بھی مشکل بنا دیا جاتا ہے، البتہ پورا جھوٹ آپ ڈٹ کر بول سکتے ہیں۔
    سچ بولے گا تو قلم تیرا سر ہو جائے گا
    جھوٹ بول کر تُو زیادہ معتبر ہو جائے گا
    اب کوئی سچ بولنے پر تیار نہیں نہ سُننے کے لیے تیار ہے، اس عالم میں جو لوگ سچ بولنے کا ہلکا پُھلکا جہاد کر رہے ہیں میں اُنہیں سلیوٹ کرتا ہوں، مجھے جب مختلف ٹاک شوز میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے میں عرض کرتا ہوں ”میں لکھنے لکھانے کا آدمی ہوں، مجھے بولنے سے زیادہ لکھنا اچھا لگتا ہے، لکھتے ہوئے مجھے یہ سوچنے کا موقع اور وقت مل جاتا ہے میں جو لکھ رہا ہوں اُس کا مُلک، معاشرے یا انفرادی طور پر کسی کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ میں اُس کی روشنی میں اپنی تحریر درست کر لیتا ہوں، میں کالم لکھنے کے بعد کم از کم دو تین بار اُسے ضرور پڑھتا ہوں، میںیہ دیکھتا ہوں کوئی میرا کالم پڑھنا شروع کرے ایسی دلچسپی، ربط اور روانی اُس میں ہے یا نہیں آخر تک وہ پڑھتا چلے جائے؟، دوسرے میں یہ کوشش کرتا ہوں میری تحریر یا میرے کسی جُملے سے معاشرے کو نقصان نہ پہنچے، بولتے ہوئے ان باتوں کا مکمل خیال رکھنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے، بعض اوقات ہم مُنہ چُک کے ایسی ایسی باتیں بول دیتے ہیں جس کے بُرے اثرات صرف معاشرے پر نہیں ہماری اپنی شخصیت اور حیثیت پر بھی پڑتے ہیں، ایک شعر ہے
    جو بول زبانوں نکل گیا
    اوہ تیر کمانوں نکل گیا
    یہ ساری تمہید مجھے اپنے محترم بھائی نامور اداکار سہیل احمد کے اُس ”بول“ کے حوالے سے باندھنا پڑی جس کے باعث ایسی ایسی ٹرولنگ کی جا رہی ہے میں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کس گھٹیا اور کم ظرف معاشرے میں کتنی مُشکل سے کچھ سانسیں ہم لے رہے ہیں، سہیل احمد اپنے ”بول“ کی وضاحت نہ بھی دیتے کوئی ”صاحب دل“ اُن سے یہ توقع نہیں کرتا اس طرح کی کوئی بات وہ کریں گے جو کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی، اُن کی وضاحت اور اُن کی پوری بات سُننے کے بعد اُن کے خلاف بکواس بازی کا سلسلہ اُصولی طور پر ختم ہو جانا چاہیے تھا، یہ طوفان بدتمیزی رُکنے کا نام نہیں لے رہا، جو بدبخت اور شرپسند لوگ اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اُنہیں احساس ہی نہیں اس کے کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں، سہیل احمد کا اصل قصور یا ”جُرم“ یہ ہے وہ ایک ایسی سیاسی جماعت اور اُس کے کچھ بڑے راہنماو¿ں کو پسند کرتا ہے جو بدقسمتی سے عوام میں اپنی مقبولیت بہت کم رکھتے ہیں، اقتدار کی چار چار باریاں اُنہوں نے لیں اس دوران مُلک یا عوام کے لیے کوئی ایسا بڑا کارنامہ اُنہوں نے نہیں کیا جس سے لوگوں کے دلوں میں بھی ”جاتی عمرے“ وہ بنا لیتے اور پچھلا الیکشن بغیرکسی سہارے کے جیت لیتے، نہ ہی وہ اب کُچھ ایسا کر رہے ہیں اگلا الیکشن بغیر کسی سہارے کے جیت سکیں، سب سے بڑی بدقسمتی اُن کی یہ ہے جس شخص کے مقابلے میں وہ غیر مقبول ہیں کچھ معاملات میں وہ اُن سے زیادہ نکما نااہل اور بدیانت ثابت ہوا ہے، یہ راز ہم پر 2018 کے الیکشن میں اُس کے اقتدار میں آنے کے کچھ عرصے بعد کُھلا، یہ طے ہے لوگ اُس کی محبت میں نہیں سسٹم کی نفرت میں اُس کے ساتھ ہیں، جس کے نتیجے میں اُس کی ”مقبولیت“ ہے ”قبولیت“ نہیں ہے اور جن کی قبولیت ہے اُن کی مقبولیت نہیں ہے، سہیل احمد کا المیہ یہ ہے وہ اُنہیں پسند فرماتے ہیں جن کی قبولیت ہے مقبولیت نہیں ہے، ظاہر ہے اُنہیں اس کا حق حاصل ہے، آج وہ اگر ”قوم یوتھ“ کے ”عظیم ترین راہنما“ کے گُن گانے لگیں اُس کے بعد جس کے خلاف جو چاہیں وہ کہہ دیں، حتیٰ کہ اُن کی کسی بات سے مذہب کی توہین کا پہلو بھی نکلتا ہو، کسی نے اُن سے نہیں پوچھنا، اس عمر میں ن لیگ اور اس کے لیڈروں سے محبت کی بھاری قیمت اُنہیں چُکانا پڑی، وہ ایک بڑے فنکار ہیں، اُن جیسا فن کسی کے پاس نہیں، جو لوگ اُنہیں صرف ”مزاحیہ فنکار“ سمجھتے ہیں غلط سمجھتے ہیں، کردار کوئی بھی ہو وہ اُس میں جان ڈال دیتے ہیں، پوری دُنیا اُن کے فن کی قدردان ہے، مجھے اُن کا یہ احسان کبھی نہیں بُھولے گا میرے دوست دلدار پرویز بھٹی امریکہ میں برین ہیمرج سے جب انتقال فرما گئے پاکستان میں اُن کے بینک اکاو¿نٹ میں اُس وقت صرف پچاس ہزار روپے تھے، جو شخص عمر بھر مستحق لوگوں کی مدد کرتا رہا اُس کی فیملی اچانک بے یارو مددگار ہو گئی، اُس وقت میں نے اپنے ادارے ”ہم سخن ساتھی“ کے زیراہتمام اُن کے لیے ایک ”بینیفٹ شو“ کیا جس میں نصرت فتح علی خان، عابدہ پروین، عنایت حسین بھٹی، عطااللہ عیسیٰ خیلوی، شوکت علی، ثریا خانم، اے نیر نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، اس شو کے دعوت نامے کی قیمت ہم نے ایک ہزار روپے رکھی تھی، سب سے زیادہ دعوت نامے عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی اور سہیل احمد نے فروخت کرائے تھے، ہم نے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے اکٹھے کیے جو اُس وقت ایک بڑی رقم تھی، یہ رقم بیگم دلدار پرویز بھٹی کے اکاو¿نٹ میں جمع کرا دی جس کے منافع سے کئی برس تک اُن کے گھر کا خرچا چلتا رہا، آج بے نام سا کوئی فنکار مر جائے اُس کے جنازے میں کوئی اور شریک ہو نہ ہو سہیل احمد ضرور ہوتے ہیں، مزید کئی خوبیوں کے وہ مالک ہیں، یہ بھی ایک خوبی ہی ہے برسوں پہلے جس نیوز چینل سے وہ جُڑے تھے اب تک اُسی کے ساتھ ہیں، بجائے اس کے ایسے فن کار کی چھوٹی موٹی غلطیاں نظر انداز کر کے ہم اُس کی قدر کریں ہم نے اُسے تماشا بنایا ہوا ہے، لعنت ہے ہم پر۔

    Related Posts

      عوام کو بڑی راحت دینے کا فیصلہ، ’وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم‘ کا باقاعدہ آغاز 16 ستمبر سے ہوگا

      سرگودھا: کمشنر   کی زیرِ صدارت ڈویژنل کوآرڈینیشن کمیٹی کا فالو اَپ اجلاس

      سرگودھا: صوبائی محتسب آفس کی 30ویں سالگرہ پر پروقار تقریب، کیک کاٹا گیا، افسران میں شیلڈز تقسیم

    مقبول خبریں

      عوام کو بڑی راحت دینے کا فیصلہ، ’وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم‘ کا باقاعدہ آغاز 16 ستمبر سے ہوگا

     بی جے پی کو اسمبلی اجلاس کی مدت پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

    بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے: یو سی سی پر اسد الدین اویسی کا شدید ردِعمل

      کنگن پور: ایمبولینس اور لوڈر رکشے میں خوفناک تصادم، ڈرائیور اور بزرگ خاتون جاں بحق

     عوام پر ایک اور مہنگائی کا بم گرانے کی تیاری، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    بلاگ

    DNA: زندگی کی کتاب

    کارو درہ: لاشوں کی بے حرمتی

    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی خاموشی نہیں، تحفظ اور انصاف کی سخت ضرورت ہے

    ”کیا پنجاب کو پہلی بار خاتون چیف سیکرٹری ملنے جا رہی ہے،آئی جی کون؟“

    سی سی پی او پشاور میاں سعید اور جنسی تشدد میں ملوث ملزمان کی ہلاکت

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.