تحریر:توفیق بٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
میں جس ٹی وی چینل سے وابستہ ہوں، بعض دوسرے نیوز چینلز کی انتظامیہ بھی اکثر مجھے اپنے ٹاک شوز خاص طور پر ”سیاسی ٹاک شوز“ میں مدعو کرتی ہے، میں نہیں جاتا، میں اُن سے معذرت کر لیتا ہوں، البتہ بعض اوقات کوئی سینئر میری معذرت قبول نہ کرے اُس کی محبت کے سامنے ہتھیار پھیکنا پڑ جاتے ہیں، کچھ ”ٹاک شوز“ باقاعدہ طور پر اب ”ڈاگ شوز“ ہو گئے ہیں، جو سوالات اُن میں کچھ معزز مہمانوں سے پوچھے جاتے ہیں اُن کے جوابات میں پورا کیا آدھا سچ بولنا بھی مشکل بنا دیا جاتا ہے، البتہ پورا جھوٹ آپ ڈٹ کر بول سکتے ہیں۔
سچ بولے گا تو قلم تیرا سر ہو جائے گا
جھوٹ بول کر تُو زیادہ معتبر ہو جائے گا
اب کوئی سچ بولنے پر تیار نہیں نہ سُننے کے لیے تیار ہے، اس عالم میں جو لوگ سچ بولنے کا ہلکا پُھلکا جہاد کر رہے ہیں میں اُنہیں سلیوٹ کرتا ہوں، مجھے جب مختلف ٹاک شوز میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے میں عرض کرتا ہوں ”میں لکھنے لکھانے کا آدمی ہوں، مجھے بولنے سے زیادہ لکھنا اچھا لگتا ہے، لکھتے ہوئے مجھے یہ سوچنے کا موقع اور وقت مل جاتا ہے میں جو لکھ رہا ہوں اُس کا مُلک، معاشرے یا انفرادی طور پر کسی کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ میں اُس کی روشنی میں اپنی تحریر درست کر لیتا ہوں، میں کالم لکھنے کے بعد کم از کم دو تین بار اُسے ضرور پڑھتا ہوں، میںیہ دیکھتا ہوں کوئی میرا کالم پڑھنا شروع کرے ایسی دلچسپی، ربط اور روانی اُس میں ہے یا نہیں آخر تک وہ پڑھتا چلے جائے؟، دوسرے میں یہ کوشش کرتا ہوں میری تحریر یا میرے کسی جُملے سے معاشرے کو نقصان نہ پہنچے، بولتے ہوئے ان باتوں کا مکمل خیال رکھنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے، بعض اوقات ہم مُنہ چُک کے ایسی ایسی باتیں بول دیتے ہیں جس کے بُرے اثرات صرف معاشرے پر نہیں ہماری اپنی شخصیت اور حیثیت پر بھی پڑتے ہیں، ایک شعر ہے
جو بول زبانوں نکل گیا
اوہ تیر کمانوں نکل گیا
یہ ساری تمہید مجھے اپنے محترم بھائی نامور اداکار سہیل احمد کے اُس ”بول“ کے حوالے سے باندھنا پڑی جس کے باعث ایسی ایسی ٹرولنگ کی جا رہی ہے میں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کس گھٹیا اور کم ظرف معاشرے میں کتنی مُشکل سے کچھ سانسیں ہم لے رہے ہیں، سہیل احمد اپنے ”بول“ کی وضاحت نہ بھی دیتے کوئی ”صاحب دل“ اُن سے یہ توقع نہیں کرتا اس طرح کی کوئی بات وہ کریں گے جو کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی، اُن کی وضاحت اور اُن کی پوری بات سُننے کے بعد اُن کے خلاف بکواس بازی کا سلسلہ اُصولی طور پر ختم ہو جانا چاہیے تھا، یہ طوفان بدتمیزی رُکنے کا نام نہیں لے رہا، جو بدبخت اور شرپسند لوگ اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اُنہیں احساس ہی نہیں اس کے کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں، سہیل احمد کا اصل قصور یا ”جُرم“ یہ ہے وہ ایک ایسی سیاسی جماعت اور اُس کے کچھ بڑے راہنماو¿ں کو پسند کرتا ہے جو بدقسمتی سے عوام میں اپنی مقبولیت بہت کم رکھتے ہیں، اقتدار کی چار چار باریاں اُنہوں نے لیں اس دوران مُلک یا عوام کے لیے کوئی ایسا بڑا کارنامہ اُنہوں نے نہیں کیا جس سے لوگوں کے دلوں میں بھی ”جاتی عمرے“ وہ بنا لیتے اور پچھلا الیکشن بغیرکسی سہارے کے جیت لیتے، نہ ہی وہ اب کُچھ ایسا کر رہے ہیں اگلا الیکشن بغیر کسی سہارے کے جیت سکیں، سب سے بڑی بدقسمتی اُن کی یہ ہے جس شخص کے مقابلے میں وہ غیر مقبول ہیں کچھ معاملات میں وہ اُن سے زیادہ نکما نااہل اور بدیانت ثابت ہوا ہے، یہ راز ہم پر 2018 کے الیکشن میں اُس کے اقتدار میں آنے کے کچھ عرصے بعد کُھلا، یہ طے ہے لوگ اُس کی محبت میں نہیں سسٹم کی نفرت میں اُس کے ساتھ ہیں، جس کے نتیجے میں اُس کی ”مقبولیت“ ہے ”قبولیت“ نہیں ہے اور جن کی قبولیت ہے اُن کی مقبولیت نہیں ہے، سہیل احمد کا المیہ یہ ہے وہ اُنہیں پسند فرماتے ہیں جن کی قبولیت ہے مقبولیت نہیں ہے، ظاہر ہے اُنہیں اس کا حق حاصل ہے، آج وہ اگر ”قوم یوتھ“ کے ”عظیم ترین راہنما“ کے گُن گانے لگیں اُس کے بعد جس کے خلاف جو چاہیں وہ کہہ دیں، حتیٰ کہ اُن کی کسی بات سے مذہب کی توہین کا پہلو بھی نکلتا ہو، کسی نے اُن سے نہیں پوچھنا، اس عمر میں ن لیگ اور اس کے لیڈروں سے محبت کی بھاری قیمت اُنہیں چُکانا پڑی، وہ ایک بڑے فنکار ہیں، اُن جیسا فن کسی کے پاس نہیں، جو لوگ اُنہیں صرف ”مزاحیہ فنکار“ سمجھتے ہیں غلط سمجھتے ہیں، کردار کوئی بھی ہو وہ اُس میں جان ڈال دیتے ہیں، پوری دُنیا اُن کے فن کی قدردان ہے، مجھے اُن کا یہ احسان کبھی نہیں بُھولے گا میرے دوست دلدار پرویز بھٹی امریکہ میں برین ہیمرج سے جب انتقال فرما گئے پاکستان میں اُن کے بینک اکاو¿نٹ میں اُس وقت صرف پچاس ہزار روپے تھے، جو شخص عمر بھر مستحق لوگوں کی مدد کرتا رہا اُس کی فیملی اچانک بے یارو مددگار ہو گئی، اُس وقت میں نے اپنے ادارے ”ہم سخن ساتھی“ کے زیراہتمام اُن کے لیے ایک ”بینیفٹ شو“ کیا جس میں نصرت فتح علی خان، عابدہ پروین، عنایت حسین بھٹی، عطااللہ عیسیٰ خیلوی، شوکت علی، ثریا خانم، اے نیر نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، اس شو کے دعوت نامے کی قیمت ہم نے ایک ہزار روپے رکھی تھی، سب سے زیادہ دعوت نامے عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی اور سہیل احمد نے فروخت کرائے تھے، ہم نے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے اکٹھے کیے جو اُس وقت ایک بڑی رقم تھی، یہ رقم بیگم دلدار پرویز بھٹی کے اکاو¿نٹ میں جمع کرا دی جس کے منافع سے کئی برس تک اُن کے گھر کا خرچا چلتا رہا، آج بے نام سا کوئی فنکار مر جائے اُس کے جنازے میں کوئی اور شریک ہو نہ ہو سہیل احمد ضرور ہوتے ہیں، مزید کئی خوبیوں کے وہ مالک ہیں، یہ بھی ایک خوبی ہی ہے برسوں پہلے جس نیوز چینل سے وہ جُڑے تھے اب تک اُسی کے ساتھ ہیں، بجائے اس کے ایسے فن کار کی چھوٹی موٹی غلطیاں نظر انداز کر کے ہم اُس کی قدر کریں ہم نے اُسے تماشا بنایا ہوا ہے، لعنت ہے ہم پر۔


