Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

      اے یو اسمال فائنانس اور وجئے سیلس پر بڑا سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کا ڈیٹا خطرے میں

      پاکستان کا ایک اور اعزاز "NUST” کے 45 محققین دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں کی فہرست میں شامل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سرحدوں سے آگے جنگ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل میں کی جانے والی حالیہ کارروائی میں صرف افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں گولہ بارود، اسلحہ اور ڈرون طیاروں کا ذخیرہ شامل تھا۔
    ترجمان پاک فوج نے ایک انٹرویو میں افغانستان اور بھارت کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کیا کہ حملوں میں منشیات کے عادی افراد کے اسپتال کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
    انہوں نے کہا کہ فضائی حملے کے بعد ہونے والے دھماکے اس بات کا ثبوت تھے کہ وہاں بڑی مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد موجود تھا، جسے پورے شہر میں محسوس کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی مخصوص اہداف کے خلاف کی گئی تھی۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے سویلین ہلاکتوں کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پراپیگنڈہ ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے بہت سے جنگجو عام شہریوں جیسے کپڑے پہنتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو بھارت کی جانب سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے بلکہ انہیں تو خود دہشتگردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی، جو فروری 2026 کے اواخر میں شدت اختیار کر گئی، محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی و تزویراتی تبدیلی کی علامت بن چکی ہے۔ بظاہر یہ تصادم میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے تک محدود دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے، پیچیدہ اور دور رس ہیں—خاص طور پر پاکستان کے لیے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت، سلامتی اور داخلی استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں، چاہے وہ باضابطہ طور پر اس کا فریق نہ بھی ہو۔
    عالمی سطح پر اس کشیدگی کو ایک روایتی عسکری تصادم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف اسرائیل اور امریکہ ایران کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور دوسری طرف ایران جوابی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ تاہم اصل تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سائبر محاذ پر بڑے پیمانے پر حملے ہو چکے ہیں جنہوں نے نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے ڈیجیٹل ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے کے بجائے ایک تزویراتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈی کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے ممالک پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔ ایران کے اندر قیادت پر حملوں کے باوجود اس کا عسکری ڈھانچہ، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب، مزید منظم اور فعال ہو کر سامنے آیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ جنگ فوری نتائج کے بجائے طویل المدتی اثر و رسوخ کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
    پاکستان اس تمام صورتحال میں ایک خاموش مگر براہِ راست متاثر ہونے والا فریق بن چکا ہے۔ توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی راستوں سے وابستہ ہونے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر ملکی معیشت پر بوجھ بن رہا ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور بیرونی قرضوں کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں ایک پہلے سے کمزور معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
    دفاعی اور بحری تناظر میں بھی صورتحال حساس ہو چکی ہے۔ سمندری راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے جبکہ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز ممکنہ دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی علاقائی کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں اور دفاعی تیاریوں پر پڑ سکتا ہے، جس کے پیش نظر بحری نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
    داخلی سطح پر بھی اس کشیدگی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے، سفارتی تنصیبات پر دباؤ اور فرقہ وارانہ حساسیت میں اضافہ ایک ایسے داخلی عدم استحکام کی نشاندہی کرتے ہیں جو اگر بروقت سنبھالا نہ گیا تو وسیع تر بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو پاکستان کی سفارتی پوزیشن ہے، جو غیر معمولی حد تک نازک ہو چکی ہے۔ ایک جانب امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ جغرافیائی، مذہبی اور علاقائی وابستگیاں موجود ہیں۔ کسی ایک جانب جھکاؤ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ردعمل پیدا کر سکتا ہے، جبکہ مکمل غیر جانبداری بھی طویل مدت میں قابلِ عمل حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ یہ کشیدگی اب صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل محاذ تک پھیل چکی ہے۔ عالمی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر پر دباؤ، زیرِ سمندر کیبل منصوبوں میں تاخیر اور سائبر سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ایک ایسے چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے لیے پاکستان ابھی مکمل طور پر تیار نہیں۔
    یہ صورتحال دراصل توانائی، ٹیکنالوجی اور عالمی طاقت کے توازن کی ایک بڑی جنگ کا حصہ ہے، اور پاکستان اس کے اثرات کے دائرے میں کھڑا ہے۔ براہِ راست عسکری تصادم سے زیادہ خطرناک وہ دباؤ ہیں جو معیشت، داخلی استحکام اور عالمی تعلقات پر بیک وقت اثر انداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اختیار کرے، توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے کام کرے، سائبر اور بحری دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے اور سب سے بڑھ کر داخلی اتحاد کو برقرار رکھے۔ یہ کشیدگی اگرچہ جغرافیائی طور پر مشرقِ وسطیٰ تک محدود دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے اثرات پاکستان کے ہر شعبے میں سرایت کر چکے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اس تنازع کا حصہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کے اثرات کا مقابلہ کس حکمتِ عملی اور بصیرت کے ساتھ کرتا ہے۔

    Related Posts

    خیبر پختونخوا پولیس میں اہم تبادلے

    پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی

    فیلڈ مارشل سے چینی وزیر کی ملاقات، سٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ

    مقبول خبریں

    بگ بی اور ان کے پرستاروں میں بلٹ پروف شیشے کی دیوار حائل،1982 سے جاری روایت کیا قائم رہ سکے گی?

    خیبر پختونخوا پولیس میں اہم تبادلے

    پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی

    فیلڈ مارشل سے چینی وزیر کی ملاقات، سٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ

    فیلڈمارشل سے کھلی شکایت: "ترجمانوں کو زبان سکھائی جاتی ہے، معاملہ آرمی چیف کے سامنے اٹھاؤں گا”مولانا فضل الرحمان

    بلاگ

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    درگاہ حضرت سچل سرمستؒ

     فصلی بٹیروں سے بچیے!

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.