تحریر:توفیق بٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے خطاب کیا ، اللہ جانے اس کی ضرورت اْنہیں کیوں محسوس ہوئی ، جس طرح کی طاقت اور سرپرستی اْنہیں میسر ہے عوام اس میں کہیں میٹر ہی نہیں کرتے ،’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘ کے مطابق اْن کے جو جی میں آئے کرتے جائیں ، جب تک وہ اقتدار میں ہیں اْنہیں کس نے پوچھنا ہے ؟ ہمارے سیاہ سی حکمرانوں کو ہر طرح کی حماقتیں اور کرپشن وغیرہ کرنے کی مکمل چھٹی دی ہی اس لیے جاتی ہے جب کبھی کسی معاملے میں وہ اڑی کریں۔ یعنی اپنے آقاؤں کے حکم کی من و عن تعمیل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں فوری طور پر اْن کے جرائم اْن کے سامنے لا کر اْنہیں اس قدر خوفزدہ کر دیا جائے وہ ہر جائز ناجائز حکم کی آنکھیں بند کر کے تعمیل کر دیں ورنہ جب یہ سیاسی حکمران عوا م دشمن فیصلے کر رہے ہوتے ہیں یا اندھا دھند کرپشن کر رہے ہوتے ہیں اْس وقت فوری طور پر اْنہیں کیوں نہیں روکا جاتا ؟ اْنہیں نہ روکنے کی جو حکمت عملی ہے وہ اب ڈھکی چھپی نہیں رہی ۔ دوسری اہم بات یہ ہے سرپرست جب خود کْھل کر کھیلتے ہیں پھر دوسروں کو وہ کیسے روک سکتے ہیں ؟ ایک بار زرداری نے کسی نجی محفل میں بتایا تھا کہ پچھلی بار وہ جب صدر پاکستان بنے اس وقت پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت کے ساتھ جب بھی اْن کی ملاقات ہوتی وہ اْن سے صرف ایک بات پوچھتے ’’سر اور سنائیں بھائیوں کا کاروبار خیر سے ٹھیک چل رہا ہے‘‘، اْس کے بعد زرداری صاحب سے کوئی کیوں یہ پوچھتا حضور آپ کا ریٹ ٹین پرسنٹ سے بڑھ کر پچاس پرسنٹ کیسے ہو گیا ہے ؟ خیر ہم بات وزیراعظم شہباز شریف کے قوم سے خطاب کی کر رہے تھے، میں ’’قوم‘‘ کو اکثر’’عوام‘‘ اس لئے لکھتا ہوں میرے نزدیک قومیں دنیا میں صرف دو ہیں ایک جاپان دوسری جرمن یا تیسری اب ایران کی صورت میں سامنے آ رہی ہے، میں نے ایک ہندوستانی رسالے ہند سماچار میں ایک بار بھارتی دانشور خشونت سنگھ کا ایک انٹرویو پڑھا تھا، ایک سوال کے جواب میں اْنہوں نے کہا’’1947 ء میں برصغیر کے مسلمان ایک قوم کی طرح متحد تھے تب اْنہیں ایک مْلک کی ضرورت تھی ، پھر ان میں قائد اعظم جیسا عظیم لیڈر پیدا ہوا جس نے پاکستان بنایا اب پاکستان ایک مْلک ہے جسے ایک قوم کی ضرورت ہے‘‘ جاپان اور جرمنی کے لوگوں کو قوم میں نے ایسے ہی قرار نہیں دیا، میں کئی بار ان مْلکوں میں گیا ہوں، میں نے بڑی گہرائی سے اْن کے رویوں اْن کے قوانین کا مشاہدہ کیا ہے ، مجھے اْن میں کوئی ایسی کمی محسوس نہیں ہوئی کہ میں برملا اْنہیں باقاعدہ طور پر ایک ’’قوم‘‘ قرار نہ دوں، اب سرکاری ملازمت سے جان چھوٹی ہے میں سوچتا ہوں جاپان اور جرمن کے بارے میں اپنے مشاہدے قلم بند کروں، اپنے لوگوں کو بتاؤں قومیں کیسی ہوتی ہیں ؟ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار’’اْوں اْوں اْوں‘‘ کا ایک واقعہ جاپان کے بارے میں سنا کر بتایا تھا قومیں ایسی ہوتی ہیں، یہ واقعہ سنانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہم جب بھی اپنے عوام پر مظالم ڈھائیں عوام اس پر احتجاج کا وہی پْھس پْھسہ طریقہ اختیار کریں جو جاپان میں لوگ اپنے حکمرانوں کے مظالم یا اْن کے ناپسندیدہ پالیسیوں پر’’اْوں اْوں اْوں‘‘ کر کے کرتے ہیں ، ہمارے حکمران جاپان اور چائنہ کی مثالیں دیتے ہوئے یہ کبھی نہیں بتاتے وہاں کرپشن کی سزا کیا ہے اور یہاں کیا ہے ؟ یہاں جو کرپشن کرتے ہوئے یعنی رشوت لیتے ہوئے پکڑا جاتا ہے وہ رشوت دے کے چْھوٹ جاتا ہے، وہاں کرپشن کی سزا موت ہے، یہاں کرپشن کرنے والے کو بعض اوقات سربراہ مملکت تک بنا دیا جاتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں جنگی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری کے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اْن میں زیادہ تر ایسے ہیں جن سے اس ملک کی ’’بابو کلاس‘‘ یعنی بیوروکریسی کے مفادات پر زد پڑ سکتی ہے ، چنانچہ یہ تصور بھی محال ہے کہ وزیراعظم کے کفایت شعاری پروگرام پر من و عن عمل درآمد ہوگا، وزیراعظم نے اعلان کیا ہے’’وفاقی کابینہ کے ارکان دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے‘‘، وہ سو ماہ کی تنخواہ نہ لیں تب بھی اْنہیں کوئی فرق اس لیے نہیں پڑتا اْن کے پاس مال کمانے کے بہت سے سرکاری طریقے یا ذرائع ایسے ہیں تنخواہ کی اْن کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ،ہمارے کتنے ایسے وزراء ، ارکان اسمبلی یا بیوروکریٹ ہیں جو ہر ماہ باقاعدگی سے بینک سے اپنی تنخواہیں نکلواتے ہیں ؟ میں کئی ایسے سرکاری افسروں کو جانتا ہوں جنہوں نے کئی کئی سال گزر گئے اپنی تنخواہیں ہی نہیں نکلوائیں کیونکہ دیگر ذرائع سے اْن کے سارے شاہی خرچے بڑی آسانی سے پورے ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے سیا سی حکمران جس بیوروکریسی کے مکمل طور پر تھلے لگے ہوئے ہیں اْس بیوروکریسی کے مفادات کو زک پہنچانے کی صرف باتیں ہی کی جا سکتی ہیں ۔ اْس پر عمل درآمد نہیں کروایا جا سکتا ، کیا وزیراعظم شہباز شریف یا وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اس حقیقت سے بے خبر ہیں ایک ایک افسر کے پاس کئی کئی گاڑیاں ہیں ؟ اْن میں اکثر وہ ہیں جو جس محکمے سے جاتے ہیں اس کی گاڑیاں اگلے محکمے میں ساتھ لے جاتے ہیں اور جس محکمے میں آتے ہیں اْس کی گاڑیوں پر بھی قبضے جما لیتے ہیں ، یہی پالیسی نوکروں چاکروں کے معاملے میں بھی اْن کی ہوتی ہے ، اگر کوئی افسر دس محکموں میں رہا ہے دس محکموں کے نوکر چاکر اْس کے اور اْس کے پورے خاندان کی خدمت پر مامور ہیں، اس مْلک کی صرف بیوروکریسی کو نتھ ڈال دی جائے، بڑے بڑے کھابہ گیر افسروں پر صرف زبانی کلامی نہیں عملی طور پر یہ پابندی لگا دی جائے وہ صرف ایک تنخواہ ایک گاڑی ایک ملازم اور ایک گھر پر گزارا کریں گے خدا کی قسم یہ مْلک قرضے لینے کے بجائے قرضے دینے والا مْلک بن جائے گا ، پر یہ کام وہ وزیراعظم ہرگز نہیں کر سکتا جو بیوروکریسی کے مکمل طور پر تھلے لگا ہوا ہے، اْس کی اپنی کوئی سوچ کوئی وژن ہی نہیں ہے، بڑے بڑے افسران جو پٹیاں اْسے پڑھاتے ہیں وہ اْن پر عمل کرتا جاتا ہے ، سو وزیراعظم نے دو روز پہلے ’’قوم‘‘ سے خطاب کر کے گونگلوؤں سے جو مٹی جھاڑی ہے وہ مٹی بالاآخر’’قوم‘‘ کے سروں پر ہی پڑنی ہے ۔
جے ویکھاں میں عملاں ولے کْجھ نئیں میرے پلے
تے جے ویکھاں تقریراں ولے بلے بلے بلے


