تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ایران کے اندر فیول کے ذخائر کو نشانہ بنا کر ماحولیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور جدید دور کی فیصلہ کن طاقتیں تماشہ دیکھ رہی ہیں امریکہ اور اسرائیل کو آخری حد تک جانے سے روکنے کے لیے کوئی موثر چارہ جوئی نہیں کی جا رہی انسانیت کے خلاف اس ظلم اور زیادتی پر مذمت کی بھی نحیف سی آوازیں سنائی دیتی ہیں
کرونا کے بعد دنیا کی معیشتیں ابھی بحال نہیں ہوئی تھیں اور دنیا اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل پائی تھی کہ اسے جنگوں نے گھیر لیا اس جنگ کی تباہی اپنی جگہ لیکن اس کے اثرات میں دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیوں کا آغاز بھی ہو سکتا ہے اس جنگ کے جہاں اور بھی بہت سارے اثرات رونما ہو رہے ہیں وہاں دنیا کے ان ارب پتی خانہ بدوشوں کی حالت زار پر بھی ترس آتا ہے جو اپنے تمام تر وسائل کے باوجود دربدر پھر رہے ہیں دنیا کے امیر ترین لوگوں نے متحدہ عرب امارات کو اپنا مسکن بنا رکھا تھا اس کی ایک وجہ وہاں کا پر امن ماحول، ٹیکسوں کی چھوٹ، عیاشی کے اڈے، کالا دھن کا تحفظ اور عالمی سرمایہ کاری کا حب ہونے کی وجہ سے یو اے ای دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی جنت تھا لیکن چند میزائلوں نے ایسا تہس نہس پھیرا کہ ارب پتیوں کا تذبذب دیکھنے والا تھا پرائیویٹ جہازوں کی اڑان اور منہ مانگے داموں چارٹرڈ فلائٹس اور زمینی راستوں سے محفوظ مقامات کی طرف بھاگ دوڑ ظاہر کر رہی تھی کہ بعض اوقات انسان کتنا بے بس ہو جاتا ہے یو اے ای سے قبل یہی سٹیٹس کبھی لبنان کا ہوا کرتا تھا جسے کسی زمانے میں مغرب کا دروازہ کہا جاتا تھا جہاں کی رنگینیاں مشہور تھیں پھر وہاں بدامنی نے ایسے ڈیرے ڈالے کہ اب کوئی لبنان کی طرف منہ بھی نہیں کرتا دراصل سرمایہ دار بہت بزدل ڈرپوک ہوتا ہے جہاں اسے ذرا سی بھنک پڑ جائے کہ اس کی زندگی کو خطرہ ہے یا اس کے سرمائے کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے وہ وہاں سے فلائی کر جاتا ہے آجکل امارات کا بھی یہی حال ہے اماراتی حکمران خود مارکیٹوں کے دورے کرکے لوگوں سے رابطے کرکے یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہو گا آپ محفوظ ہیں لیکن وہاں عجیب قسم کی پاجڑ پڑی ہوئی ہے نہ جانے اس جنگ کے بعد امارات اپنا سٹیٹس برقرار رکھ پائے گا یا نہیں خدشہ ہے کہ کہیں امارات میں کھربوں کی سرمایہ کاری نہ ڈوب جائے ایک اور بڑا مسئلہ جو سر اٹھا سکتا ہے وہ گلف اسٹیٹ میں لیبر کلاس کا ہے جو مختلف ملکوں سے روزگار کے سلسلہ میں خدمات سر انجام دے رہی ہے اگر یہ جنگ لمبی ہوتی ہے تو ان کی بے روزگاری سے ایک نیا المیہ سر اٹھائے گا تمام تر حالات کا جائزہ لیا جائے تو وقت کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر جنگ بند کر کے بحالی کا کام شروع کیا جائے تو نقصانات کا کسی حد تک مداوا ممکن ہے لیکن اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو پورا خطہ بالخصوص اور آدھی سے زیادہ دنیا بالعموم اس کے اثرات کو بھگتے گی

