لندن / واشنگٹن :عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز ایک حیرت انگیز اور بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ پیر کے روز جو تیل 119.50 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر دنیا بھر کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا، منگل کی صبح تک اس کی قیمت گر کر 92 ڈالر تک پہنچ گئی۔ محض چند گھنٹوں میں قیمتوں میں 6.6 فیصد کی یہ کمی عالمی سیاست میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔
قیمتوں میں کمی کے پیچھے ‘ٹرمپ فیکٹر’
مارکیٹ میں اس اچانک سکون کی سب سے بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں نے اس بیان کو مثبت لیا اور اونچی قیمتوں پر تیل کی فروخت شروع کر دی۔
مزید برآں، کریملن سے آنے والی اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت میں جنگ کے جلد خاتمے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ "ایران کے خلاف جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے”۔اگرچہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دھمکی دی ہے کہ اگر حملے نہ رکے تو وہ خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیں گے، تاہم عالمی مارکیٹ نے اس خطرے کو فی الحال نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ اور G-7 ممالک کا اپنے ہنگامی ذخائر (SPR) سے لاکھوں بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ روس پر لگی تیل کی پابندیوں میں نرمی پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ سپلائی برقرار رہے۔
سپلائی کے چیلنجز بدستور موجود
قیمتوں میں کمی کے باوجود سپلائی کا بحران مکمل ختم نہیں ہوا۔
عراق: جنوبی آئل فیلڈز میں پیداوار میں 70 فیصد کمی۔
خلیجی ممالک: کویت اور سعودی عرب بھی پیداوار میں کمی کی تیاری کر رہے ہیں۔
تجزیہ: ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں 75 ڈالر سے 105 ڈالر کے درمیان رہیں گی، تاہم کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قیمتیں دوبارہ بھڑک سکتی ہیں۔
119 ڈالر فی بیرل سے واپسی ،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا ‘کرِیش’: ٹرمپ اور پوتن کے رابطے نے بازی پلٹ دی!

