تحریر:سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
جب ساٹھ سال کا آدمی اکیلا گھر میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ واقعی ساٹھ سال کا ہی دکھائی دیتا ہے۔ خاموشی بڑھتی ہے، سوچیں بھاری ہونے لگتی ہیں، اور جسم بھی آہستہ آہستہ سستی اور بیماری کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ انسان جتنا خود کو تنہا کر لیتا ہے، بڑھاپا اتنا ہی جلدی محسوس ہونے لگتا ہے۔ لیکن جب یہی ساٹھ سال کے دوست آپس میں مل بیٹھتے ہیں تو منظر بدل جاتا ہے۔ باتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ہنسی کے قہقہے گونجتے ہیں، اور پرانی یادوں کے دریچے کھلنے لگتے ہیں۔ کوئی اسکول کے دن یاد کرتا ہے، کوئی جوانی کے قصے سناتا ہے، کوئی اپنی پرانی شرارتیں اور کبھی کبھی جوانی کے معاشقوں تک کی باتیں چھیڑ دیتا ہے۔ ایسی محفلوں میں وقت جیسے پیچھے لوٹ جاتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جو بزرگ صرف گھر میں بیٹھے رہتے ہیں وہ اکثر جلد بیمار پڑنے لگتے ہیں، کیونکہ تنہائی انسان کے جسم اور دل دونوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ لیکن جو دوستوں میں بیٹھتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں، ہنستے ہیں اور پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں، وہ اندر سے ہلکے اور خوش رہتے ہیں۔ یہی خوشی انسان کو زیادہ دیر تک جوان رکھتی ہے۔
اس لیے بڑھاپے میں خود کو تنہا مت کریں۔ دوستوں سے ملتے رہیں، اختلاف ہو بھی جائے تو دل میں جگہ باقی رکھیں۔ کبھی چائے پر بیٹھ جائیں، کبھی پرانی باتیں دہرا لیں، کبھی دل کی ہنسی بانٹ لیں۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ بڑھاپا عمر سے نہیں آتا، بڑھاپا تنہائی سے آتا ہے۔
اور سچے دوست وہ نعمت ہیں جو انسان کو آخری عمر تک زندہ دل اور خوش مزاج بنائے رکھتے ہیں۔


