Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایپل کا نیا ہوم پوڈ منی 2 متعارف، سری اے آئی اور جدید فیچرز شامل

      مصنوعی ذہانت امریکا میں ایک کروڑ 10 لاکھ ملازمتیں کھا جائے گی، میکنسی رپورٹ جاری

      آواز سے دوگنی رفتار والا طیارہ، سفر کا وقت 70 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ

      زمین سے 7.5 نوری سال دور دنیا پر پانی کے بادلوں میں تبدیلی کی پہلی تصدیق

      مصنوعی ذہانت کا کمال: جیف بیزوز کی حیران کن پیشگوئی، لوگ ہفتے میں صرف 3 دن کام کرکے بھی شاندار کمائی کر سکیں گے

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کچے کے ڈاکوؤں سرنڈر، جدید اسلحہ کہاں غائب ہوا؟ بھاری ہتھیار قومی تحویل میں لینے کا مطالبہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    حکومتِ پنجاب کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی کا ہے۔ اگر کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن واقعی کامیاب ہو رہا ہے تو اس کامیابی کو شفافیت، ٹھوس شواہد اور غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے ثابت کرنا ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو چاہیے کہ فوری طور پر ایک بااختیار، خودمختار تحقیقاتی کمیشن قائم کریں اور آئی جی پنجاب عبدالکریم کو واضح ہدایات جاری کریں کہ سرنڈر کرنے والے عناصر سے نہ صرف مکمل تفتیش کی جائے انہیں جدید اسلحہ سپلائی انکی سرپرستی اور پولیس میں سہولت کاری کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے بلکہ ان کے زیر استعمال جدید اسلحے کی ریکوی بھی یقینی بنائی جائے ورنہ یہ “کامیابی” کل کے بڑے خطرے میں بدل سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایک اہم اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومت محض دعوؤں پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کو یقینی بنائے۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ آئی جی پنجاب عبدالکریم کو حکم دے کہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کے زیر استعمال رہنے والے بھاری اور جدید اسلحے کو برآمد کر کے اپنی تحویل میں لے، اس کی مکمل چھان بین کرے اور اسے پنجاب پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ مستقبل میں انہی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ایسے دہشت گردوں اور ڈاکوؤں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ کچے کے علاقوں میں جاری سیکیورٹی آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پر ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کے سرنڈر کی خبریں بظاہر حوصلہ افزا ہیں، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتے۔ یہ وہی گروہ ہیں جو اغوا برائے تاوان، خواتین سے زیادتی، پولیس اہلکاروں کے اغوا اور شہادت، تھانوں اور چوکیوں پر حملوں، اور بھاری خودکار و غیر ملکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہے۔
    پھر اچانک کیا ہوا کہ یہی عناصر بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال کر قانون کے تابع ہو گئے؟ حال ہی میں پنجاب بھر میں ایسے سیکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک یا زخمی ہوئے، یا مبینہ طور پر ان کے اپنے ہی نیفے میں پستول چلنے کے واقعات سامنے آئے جو ہمیشہ سوالات کو جنم دیتے رہے ہیں۔ اگر واقعی سینکڑوں خطرناک ملزمان نے سرنڈر کیا تو بنیادی سوال بدستور موجود ہے ان کے پاس موجود جدید اسلحہ کہاں گیا؟ وہ راکٹ لانچر، ہیوی مشین گنز اور آٹو میٹک رائفلز کہاں ہیں جن سے وہ پولیس پر حملے کرتے تھے؟ پولیس ذرائع کے مطابق جمع کرایا گیا اسلحہ زیادہ تر پرانی بندوقوں تک محدود ہے، جو اس پورے عمل کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
    مزید حیران کن امر یہ ہے کہ نہ تو ان ہتھیاروں کے ذرائع پر کوئی واضح تفتیش سامنے آئی، نہ ہی کسی سپلائی نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اصل ہتھیار کہیں اور منتقل کر دیے گئے ہوں اور سرنڈر ایک ترتیب دیا گیا بیانیہ ہو؟
    ماضی کے تجربات بھی کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ کئی آپریشنز وقتی کامیابی کے بعد دوبارہ اسی مسئلے کو جنم دیتے رہے۔ اس بار بھی اگر اصل حقائق سامنے نہ لائے گئے تو یہ وقتی سکون ایک نئے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر معمولی جرائم میں گرفتار افراد کے ساتھ پولیس مکمل شواہد کے ساتھ پریس کانفرنس کرتی ہے، یہاں پولیس افسران خطرناک ڈاکو اور دہشت گردوں کو اپنے پیچھے یا ساتھ کھڑا کر کے پریس کانفرنس کرتے ہیں تو کچے کے ان خطرناک عناصر کے معاملے میں یہ شفافیت کیوں نظر نہیں آتی؟ ریاستی رٹ صرف دعوؤں سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے سچ کو سامنے لانا اور نظام کو صاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر واقعی کچے میں امن قائم ہو رہا ہے تو اسے ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا جائے ورنہ یہ خاموشی بہت کچھ چھپا رہی ہے۔

    Related Posts

    قطر سے اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گیا، سردیوں میں بحران کا خدشہ برقرار

    ڈی آئی خان: والی بال میچ سے واپسی پر 2 گروپوں میں فائرنگ ، 5 افراد جاں بحق

    اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کا قابلِ تحسین اقدام، چار بہنوں کو وراثتی حق دلوا دیا

    مقبول خبریں

    ایپل کا نیا ہوم پوڈ منی 2 متعارف، سری اے آئی اور جدید فیچرز شامل

    قطر سے اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گیا، سردیوں میں بحران کا خدشہ برقرار

    14 اکتوبر 2026 کا زائچہ: برجِ قوس کے حامل افراد کو زبان پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے

    ڈی آئی خان: والی بال میچ سے واپسی پر 2 گروپوں میں فائرنگ ، 5 افراد جاں بحق

    صاحبزادہ فرحان کا کمال، ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا

    بلاگ

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز: ادب، قلم اور فکری شعور کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت

    حکمرانوں کیلئے ایک نہ بھولنے والا اور انمٹ سبق۔!!!

    پاکستان کا سوال: عوام کے لیے سوچنے والا مخلص قیادت کا خواب کب پورا ہوگا؟

    ریت کی دیوار پر بیٹھا پختونخوا کا اقتدار اور آرٹیکل 232 کی گونج

    اکیس سال بعد بھی ایک ہی سوال، آخر ہم کب سنبھلیں گے؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.