قطر سے ایل این جی کا اکتوبر کا پہلا کارگو (گیس بردار جہاز "العرِیش”) پاکستان کو موصول ہو چکا ہے، جو کہ اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا ہے۔ اس کھیپ کے پہنچنے کے باوجود آنے والے سردیوں کے سیزن میں گیس کے شدید بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق قطر سے سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور بعض ٹرمینلز کی بندش کے باعث سردیوں میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم نے متوقع قلت سے نمٹنے کے لیے ‘ونٹر گیس پلان’ پر کام شروع کر دیا ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے سیزن میں مجموعی طور پر تقریباً 21 ایل این جی کارگوز کی ضرورت ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قطر سے باقاعدہ سپلائی کا تسلسل مکمل طور پر بحال نہ ہوا تو حکومت کو مجبورا مہنگے اسپاٹ کارگو منگوانا پڑیں گے، جس سے نہ صرف قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا بلکہ عام صارفین اور صنعتوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
قطر سے اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گیا، سردیوں میں بحران کا خدشہ برقرار

