تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
امریکہ اور اسرائیل نے ایسے وقت میں ایران پر حملہ کیا ہے جب ایران کو مذاکرات میں مصروف رکھا ہوا تھا یہ اقدام دھوکہ دہی اور سازش کے مترادف ہے کیونکہ ایک طرف مذاکرات ہو رہے تھے اور ابھی مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے تھے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا مکار دشمن نے مذاکرات کا چکمہ دے کر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا اس حملے کا نہ کوئی اخلاقی جواز تھا نہ ہی قانونی جواز تھا کیونکہ جس الزام کے تحت ایران پر حملہ کیا گیا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یہ کتنا بھونڈا مذاق ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں ایران پر اس الزام پر حملہ کر رہی ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے دنیا میں کوئی پوچھنے والا ہو تو ان دونوں سے پوچھا جائے کہ جب امریکہ نے جوہری ہتھیار بنائے تھے تو اس نے کس سے اجازت لی تھی بلکہ اس دنیا میں امریکہ واحد ملک ہے جس نے جاپان کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کرکے انسانیت کی دھجیاں بھی اڑائیں آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ قتل وغارت گری امریکہ کر رہا تمام خطرناک قسم کے ہتھیار امریکہ استعمال کر رہا ہے لیکن وہ جس پر چاہتا ہے خطرناک ہتھیاروں کا الزام لگا کر چڑھ دوڑتا ہے یہی حال اسرائیل کا ہے خود جوہری ہتھیار رکھے ہوئے ہے اور پورے خطے کا امن تباہ کر رکھا ہے لیکن دوسروں پر الزام لگا کر ان کو تباہ کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہے دراصل امریکہ اور اسرائیل کی پرانی خواہش ہے کہ ایران میں اسلامی قیادت کا خاتمہ کرکے ان کی مرضی کی کھٹ پتلی قیادت لائی جائے جو امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر عمل درآمد کروائے دونوں سمجھتے ہیں کہ ایران گریٹر اسرائیل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جوہری ہتھیار تو ایک بہانہ ہیں حالانکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اس کے خلاف فتوی دے چکے تھے اور ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن اصل ٹارگٹ کچھ اور ہے جب سے ٹرمپ برسر اقتدار آئے ہیں اسرائیل کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ایران پر بےجا معاشی پابندیاں لگا کر مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایران پچھلے چالیس سالوں سے پابندیوں کے باوجود نہ صرف سروایو کر رہا ہے بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہا تھا اس پر امریکہ اور اسرائیل کو تشویش تھی تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں کی لیکن مختلف اوقات میں ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا جاتا رہا کئی شہادتوں کے باوجود ایران کے سسٹم پر کوئی فرق نہ پڑا تو اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر دی اس جنگ میں بھی ایران نے نہ صرف اپنا بھرپور دفاع کیا بلکہ اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر کے اسرائیلیوں کو بنکروں میں پناہ پر مجبور کر دیا بہت سارے لوگ اسرائیل سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ان حالات کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے اپنے سب سے خطرناک بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ایران پر دنیا کے خطرناک ترین بم برسا کر جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے دعوے کیے بندہ پوچھے کہ اگر آپ نے ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا تھا تو اب جنگ کا کیا جواز باقی بچتا تھا پھر امریکہ نے ایرانی عوام کے اندر پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کی بڑے پیمانے پر لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے پر راغب کیا جب ایرانی قیادت نے اس شورش پر قابو پا لیا تو امریکہ کی رجیم چینج کا منصوبہ ناکام ہو گیا اب بھی امریکہ کی دو بڑی خواہشیں تھیں ایک وہ ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کو منظرنامے سے ہٹا کر اپنی مرضی کی قیادت ایران پر مسلط کرنا چاہتا تھا دوسرا وہ چاہتا تھا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے سرنڈر کر جائے جوہری پروگرام سے مکمل دستبرداری اختیار کر لے اور جوہری تنصیبات عالمی اداروں کی دسترس میں آجائیں اس کا میزائل پروگرام بھی ختم کر دیا جائے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام کو باور کروا سکیں کہ جو کام پچھلے چالیس پچاس سالوں سے امریکہ کے بڑے بڑے صدور نہ کر سکے وہ ٹرمپ نے کر دکھایا ہے لیکن ٹرمپ تاحال اس میں کامیاب نہیں ہو سکے صورتحال یہ ہے کہ بقول امریکہ کے ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت ختم ہو چکی ہے ان کا دعوٰی ہے کہ انھوں نے ایک ہزار مقامات کو نشانہ بنایا ہے ان کے 48 لیڈر دنیا میں نہیں رہے اس کے باوجود ایران ڈٹ کر کھڑا ہے ایران کو اب بھی دھمکایا جا رہا ہے کہ وہ سرنڈر کرکے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے ورنہ خوفناک تباہی ایران کا مقدر ہے دوسری جانب ایران کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ ایران کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے انھیں اندازہ تھا کہ ان کی قیادت کو کسی بھی وقت نشانہ بنایا جاسکتا ہے اس لیے ایران نے چوتھے درجے تک متبادل قیادتیں تیار کر رکھی تھیں آج تک امریکہ اور اسرائیل کے ہر حربے کو ایرانی قوم نے اپنی ولولہ انگیز حب الوطنی سے ناکام بنایا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ خوفناک بحران میں ایران اپنی بقا کی جنگ کیسے لڑتا ہے امریکہ اپنی سب سے بڑی فوج کے ساتھ ایران کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے نہ صرف پانیوں پر اپنے بحری بیڑوں کے ذریعے ایران کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے اسرائیل کے ذریعے بھی حملہ آور ہے یورپ کے ممالک بھی جنگ میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں قطر، اومان، یو اے ای، سعودی عرب،عراق سمیت متعدد عرب ملکوں میں بھی اپنے فوجی اڈوں سے ایران پر گرفت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اس کے باوجود ایران نے خطے میں موجود متعدد ملکوں میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اس کے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے جس سے دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جنگ نے پورے مڈل ایسٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے خدشہ ہے کہ اگر یہ جنگ بڑھی تو دنیا کی بڑی آبادی متاثر ہو سکتی ہے ابھی دیکھنا یہ ہے کہ ایران اس بحرانی کیفیت میں اپنی بقا کی جنگ کیسے لڑتا ہے اگر ایران کے اندر سے بغاوت نہ ہوئی تو ایران قیادت کے فقدان پر قابو پا لے گا اگر امریکہ کا ایران میں رجیم چینج کا خواب پورا ہو گیا تو پھر سمجھیں مشرق وسطی کی خیر نہیں پھر گریٹر اسرائیل کو بننے سے روکنا بھی مشکل ہو جائے گا لیکن بدقسمتی سے عالم اسلام خاموش ہے عالمی طاقتیں دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں اگر فوری جنگ رکوانے کی کوشش نہ کی گئی اور یہ جنگ طوالت اختیار کر گئی تو یہ جنگ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ٹرمپ پہلے ہی اپنی پالیسیوں اور معاشی ٹیرف سے دنیا کی معیشتوں کو اوتھل پتھل کر چکے ہیں مزید معاشی ناہمواری پھیلے گی اس لیے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک چین روس یورپی یونین اس میں اپنا کردار ادا کرے اور ایرانیوں کو جینے کا حق دیا جائے