تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پاکستان نے روز اول سے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کی لیکن افغانستان کی طرف سے ہمیشہ ہمارے خلاف تانے بانے بنے گئے حتی کہ قیام پاکستان کے وقت افغانستان نے ہمیں قبول بھی نہیں کیا تھا اس کے باوجود پاکستان نے اچھے ہمسایوں کی طرح افغانستان کی ہمیشہ خیر خواہی چاہی افغانستان کے لیے سہولتیں فراہم کیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی ضرورتیں پوری کیں انھیں تجارت کے لیے راہداری فراہم کی جب روس نے اس پر حملہ کیا تو ساری جنگ جہاد افغانستان کے نام پر ہم نے لڑی اور فتح کے بعد افغانستان کے استحکام کے لیے خدمات سر انجام دیں یہاں تک کہ افغانستان میں لڑنے والے گروپوں میں صلح کروائی افغانستان میں پہلی بار طالبان کی ایک حکومت قائم ہوئی ابھی بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جب یو این او کی فورسز نے حملہ کیا تو افغانستان کا کیس ہم لڑتے رہے غیر ملکی افواج کے انخلا میں بنیادی کردار ادا کیا ہمیں توقع تھی کہ افغانستان ہمیشہ ہمارا احسان مند رہے گا لیکن جنگ کے خاتمہ کے افغانستان انڈیا کی جھولی میں جا بیٹھا اور پاکستان کے خلاف پراکسی بن گیا پاکستان نے بہت سمجھایا کہ یہ آپ کو ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے آپ کسی کے آلہ کار نہ بنیں پاکستان میں افغانستان میں قیام امن اور استحکام کیلئے چین سمیت دنیا کے مختلف ممالک کو افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا پاکستان نے 40 لاکھ افغانوں کو پالا ان کی تین نسلوں کی مہمان نوازی کی پاکستان میں انھیں اپنے وطن سے زیادہ محبت دی ان کو آذادی کے ساتھ پورے ملک میں کاروبار کی اجازت دی ان کے بچوں کو پڑھایا افغانوں کا علاج تک پاکستان میں ہوتا رہا لیکن نہ جانے ان کے دماغوں میں کیا خناس بھر دیا گیا ہے ساری عمر پاکستان میں گزار کر جانے والے افغانی بھی پاکستان کے خلاف بولتے ہیں افغانستان کی جانب سے پاکستان کو ڈسٹرب کرنے کے لیے جب دہشتگردی کی کارروائیاں بڑھنے لگیں تو پاکستان نے ہرممکن کوشش کی کہ کسی طرح افغانستان کو سمجھایا جائے کہ وہ ان کارروائیوں سے باز آ جائے عالمی سطح پر بھی کوششیں کی گئیں حتی کہ ترکیہ اور قطر میں ثالثی کی کئی بیٹکھیں ہوئیں لیکن افغانستان کسی اور کے ہتھے پوری طرح چڑھ چکا تھا اور اس کا برملا اظہار اس وقت ہوا جب افغانستان کے وزیر خارجہ نے بھارت کا دورہ کیا تو تمام باتیں واضح ہو گیں اس کے باوجود پاکستان نے افغانستان کو پاکستان میں مداخلت پر 836 احتجاجی مراسلے بجھوائے 13 ڈی مارش دیے گئے 225 فلیگ میٹنگز ہوئیں 8کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس ہوئے قیام امن کے لیے چار دفعہ پاکستان کے وزیر خارجہ کابل گئے سیکرٹری خارجہ کی سطح پر وفود بھیجے لیکن سب بےمعنی رہا پچھلے سال 2025 میں افغانستان کی جانب سے سرحد پار سے حملوں اور دہشتگردی کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہو گیا پاکستان نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق افغانستان پر ایک فضائی کارروائی کی اور دہشتگردی کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی لیکن اس کے باوجود پاکستان نے دوستوں کے کہنے پر افغانستان سے سیز فائر کیا لیکن افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہ کیے گئے پاکستان نے نہ صرف سرحد پار سے دہشتگردی اور مداخلت کے واضح ثبوت افغانستان کو دیے بلکہ بین الاقوامی برادری کے سامنے بھی حقائق رکھے لیکن افغانستان بددستور بھارت کی پراکسی کر رہا ہے یہاں ٹک کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں ملوث افغان شہریوں کی لاشیں ثبوت کے طور پر انھیں دیں بلکہ ان کے رابطوں کارروائیوں کے بارے میں واضح ثبوت بھی فراہم کیے افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہی ہے دہشتگردوں نے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے اور معاملات اب شہروں تک بڑھا دیے گئے ہیں حال ہی میں اسلام آباد میں مسجد وامام بارگاہ میں ہونے والے بم دھماکا کرنے والے شخص کے افغانستان سے تربیت حاصل کرنے کے ثبوت مل چکے ہیں باجوڑ میں ہونے والے دہشتگرد حملہ میں حملہ آور کی شناخت افغان شہری احمد عرف قاری عبداللہ کے نام سے ہوئی جس کے بعد پاکستان کے پاس افغانستان میں قائم دہشتگردی کے اڈوں کے خلاف کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں موجود ٹی ٹی پی، داعش خراسان سے وابستہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا فضائی کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کے 7مراکز تباہ کیے جن میں نیا مرکز نمبر1 ننگر ہار نیا مرکز نمبر 2 ننگر ہار خارجی مرکز مولوی عباس خوست خارجی اسلام مرکز ننگر ہار خارجی ابراہیم مرکز ننگر ہار، خارجی مرکز ملا رہبر پکتیکا، خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا شامل ہیں دراصل بھارت نے پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کو دل پر لے لیا ہے اور براہ راست پاکستان سے ٹکر لینے کا اس میں حوصلہ نہیں اس لیے وہ دہشتگردی پر سرمایہ کاری کرکے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے اس کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروا کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر دے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے پاکستان کی عوام اور ادارے الرٹ ہیں ہم ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کا ادراک رکھتے ہیں پاکستان نے بھارت اور افغانستان کی مداخلت کے ثبوت بین الاقوامی فورمز کے سامنے رکھے ہیں بین الاقوامی برادری کو باور کروایا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور بھارت مکمل طور پر دہشتگردی پر فنانسنگ کر رہا ہے اس پر اب بین الاقوامی اداروں کو بھی تشویش ہو رہی ہے بین الاقوامی اداروں اور معتبر میڈیا کی اس بارے میں کئی رپورٹس بھی سامنے آ چکی ہیں اگر بین الاقوامی برادری نے اس کا نوٹس نہ لیا تو نائن الیون کی طرز کا کوئی اور المیہ بھی رونما ہو سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کو دہشتگرد ملک قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے اسے افغانستان میں دہشتگردی پر سرمایہ کاری سے روکا جائے پاکستان تو دہشتگردی کے خلاف نبرد آزما ہے ہی لیکن اس معاملہ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہے پائیدار امن کے لیے دہشتگرد تنظیموں کا خاتمہ بہت ضروری ہے