تحریر:نویدبلوچ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔وہیں سے سچ کا آغازہوتاہے

ہم پانی، بجلی، گیس، آٹے اور چینی کے پیچھے دوڑتے رہ گئے، اور مکالمہ،جو اصل ضرورت تھا،ہم سے چھن گیا۔آپ کسی دن صبح اٹھ کر سوشل میڈیا کھنگالیں۔ کہیں فتوے بکتے نظر آئیں گے، کہیں گالیاں دی جا رہی ہوں گی، کہیں کسی کی عزت اچھالی جا رہی ہو گی، اور کہیں دھمکیاں دی جا رہی ہوں گی۔ لیکن جس چیز کا نام و نشان نہیں ملے گا، وہ ہے مکالمہ۔ہمارے ہاں بات سننے کا رواج ہی نہیں رہا۔ ہم صرف بولنا چاہتے ہیں، اور بول کر صرف اپنا نقط نظر تھوپنا چاہتے ہیں۔ ہمیں سننے کا حوصلہ ہے نہ ماننے کی ہمت۔ اختلاف رائے کو ہم دشمنی سمجھتے ہیں اور ہر مخالف کو واجب القتل۔ یہی وجہ ہے کہ قومیں آگے بڑھتی جا رہی ہیں، اور ہم پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں۔ہم نے ہر مسئلے کا حل گالم گلوچ میں ڈھونڈ لیا ہے۔ آپ کسی سیاسی رائے کا اظہار کریں، کسی سماجی مسئلے پر آواز اٹھائیں، یا کسی دینی رخ پر بات کریں۔فورا لوگ دوڑتے چلے آئیں گے۔ کوئی آپ کو "ایجنٹ” کہے گا، کوئی "غدار”، کوئی "منافق” تو کوئی "کافر”۔ دلیل؟ دلیل نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی۔ہم نے مکالمے کو اختلاف کا نہیں بلکہ بغاوت کا دروازہ سمجھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نہ پارلیمان میں مکالمہ بچا، نہ عدالتوں میں، نہ میڈیا پر اور نہ ہی گھروں میں۔ ہم نے بحث کو بدتمیزی اور اختلاف کو دشمنی بنا دیا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں قومیں تباہ ہوتی ہیں۔مکالمہ کیا ہے؟مکالمہ صرف بات چیت کا نام نہیں، یہ ایک تہذیب ہے، ایک ظرف ہے، ایک رویہ ہے۔ یہ سننے اور برداشت کرنے کا فن ہے۔ جس معاشرے میں یہ ختم ہو جائے، وہاں انسان نہیں، صرف آوازیں رہ جاتی ہیں۔وہ بھی شور میں بدل جاتی ہیں۔یاد رکھیں!ہم گیس، پانی، بجلی اور چینی کے بغیر جی سکتے ہیں، لیکن مکالمے کے بغیر نہیں۔ کیونکہ جب قومیں بات کرنا چھوڑ دیتی ہیں، تو پھر بندوقیں بولنا شروع کر دیتی ہیں۔ہمارے پاس اب بھی وقت ہے۔ ہمیں مکالمہ سیکھنا ہوگا۔ ہمیں اختلاف کو برداشت کرنا ہوگا۔ ہمیں اختلاف کو دشمنی کے بجائے ترقی کا زینہ بنانا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی نہ سیکھا، تو ہمارے بچے ہمیں صرف ایک شور زدہ تاریخ کے صفحوں میں یاد کریں گے۔ایک ایسی قوم کے طور پر، جس کے پاس سب کچھ تھا، مگر مکالمہ نہیں تھا۔اور جس قوم کے پاس مکالمہ نہ ہو، اس کے پاس مستقبل بھی نہیں ہوتا۔
