بیجنگ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمم نہیں چاہتے ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ کے ہمراہ ژونگ نان ہائی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت میں تجارت، ایران اور بہت سے دیگر امور‘ شامل تھے۔ ٹرمپ کے مطابق شی جن پنگ 24 ستمبر کو امریکا کا دورہ کریں گے۔
US President Donald Trump left Beijing on Friday afternoon, concluding his state visit to China: Xinhua (Video: CCTV) pic.twitter.com/Tlu7NjFSUC
— Global Times (@globaltimesnews) May 15, 2026
صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ خطاب کے دوران چینی صدر نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایک ’نیا دو طرفہ تعلق‘ قائم کیا ہے جو انتہائی تعمیری ہے۔
صدر شی نے اسے ایک سنگ میل بھی قرار دیا۔تاہم جب ان کا انگریزی مترجم اس بیان کا ترجمہ کر رہا تھا تو صحافیوں کو کمرے سے باہر جانے کا کہہ دیا گیا اور براہ راست نشریات ختم کر دی گئیں۔

صدر ٹرمپ کے ہمراہ خطاب میں چینی صدر شی نے ژونگ نان ہائی کمپلیکس نے سب سے پہلے اس جگہ کی تاریخی اہمیت پر بات کی اور کہا کہ ’یہ جگہ کبھی شاہی باغ کا حصہ ہوا کرتی تھی، اس کمپلیکس کی بہت تاریخی حیثیت ہے۔
چینی صدرنے مزید بتایا کہ چہل قدمی کے دوران جس درخت کو انھوں نے دیکھا وہ 490 سال پرانا تھا۔ اسی دوران چینی صدر نے کہا کہ وہ باغ میں دیکھے گئے چینی گلابوں کے بیج ٹرمپ کو تحفے کے طور پر بھیجیں گے۔اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے یہ بہت پسند آیا، یہ بہت اچھا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے کئی مختلف مسائل حل کیے جنہیں دوسرے لوگ حل نہیں کر سکتے تھے۔‘ ٹرمپ کے مطابق لیکن اسی وقت صدر شی نے کہا کہ وہ وہاں سے بہت سا تیل خریدتے ہیں اور وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین نے امریکا سے تیل اور بوئنگ کے 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ تجارتی مذاکرات ’پچھلی بار سے بہتر‘ رہے۔
اس کے بعد انھوں نے شی جن پنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ آنا ان کے لیے اعزاز ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ سے 24 ستمبر کو دوبارہ ملاقات ہو گی جب وہ امریکا کا دورہ کریں گے۔
قبل ازیں چین کی وزارتِ خارجہ نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کا فوری حل تلاش کیا جانا چاہیے۔چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران سے متعلق تنازع ’کبھی ہونا ہی نہیں چاہیے تھا‘ اور ’اسے جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔چینی ترجمان کے مطابق اس تنازع کا جلد از جلد حل تلاش کرنا نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔

