Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گاڑی مالکان متوجہ ہوں! ہنڈا اٹلس کا ہزاروں گاڑیاں واپس بلانے کا اعلان،

      الیکٹرک گاڑیوں کے لیے موٹروے ٹول ٹیکس معاف! ٹیکس چھوٹ سمیت بڑے ‘سرپرائزز’

      ہرشہری کوگاڑی کا مالک بنانے کافیصلہ ، نئی آٹو پالیسی منظور

      طلبہ کی بڑی پریشانی حل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے گھر بیٹھے ڈگریاں تصدیق کرانے کا طریق کار

      ”مہنگی بجلی بائے بائے“: ٹریٹ بیٹری لمیٹڈ نے ’لیتھیم نیو پاور‘ سیریز لانچ کر دی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    آئی ایم ایف کا بجٹ! عوام ہوشیار، گیس ،پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کا نیا طوفان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    واشنگٹن / اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے معاشی تخمینوں کی نئی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں عوام پر ایندھن اور ٹیکسوں کا مزید بوجھ بڑھنے کے واضح اور تشویشناک اشارے دیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے جاری اصلاحاتی پروگرام کے تحت تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق، ایندھن پر مبنی ٹیکسوں (پیٹرولیم لیوی) پر حکومت کا انحصار برقرار رہے گا اور آئندہ بجٹ میں اسے مزید بڑھایا جائے گا۔
    آئی ایم ایف کی تشخیص کے مطابق، ایندھن سے متعلق ریونیو کی وصولی میں مزید اضافے کا قومی امکان ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، جاری مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1.468 ٹریلین روپے مقرر تھا، مگر اب وصولیاں اس ہدف سے تجاوز کر کے 1.546 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے تحت وصولیوں کا ہدف بڑھا کر 1.727 ٹریلین روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر خزانہ بھرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

    ٹیکسوں کا بھاری ہدف اور گیس مہنگی ہونے کا امکان

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا کل ٹیکس وصولی کا ہدف اگلے مالی سال کے لیے 15.264 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس بھاری ہدف کو پورا کرنے کے لیے مختلف مد میں ٹیکس بڑھائے جائیں گے۔ تخمینے کے مطابق ڈائریکٹ ٹیکسوں سے 7.413 ٹریلین روپے، جبکہ سیلز ٹیکس سے 4.727 ٹریلین روپے جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ، وفاقی حکومت کی جانب سے گیس سرچارج کی وصولی میں بھی اضافے کی توقع ہے، جسے اگلے مالی سال میں بڑھا کر 151 ارب روپے تک لے جایا جائے گا۔ نان ٹیکس ریونیو، جو اس سال 3.702 ٹریلین روپے رہنے کی امید ہے، اگلے سال کم ہو کر 2.768 ٹریلین روپے پر آسکتا ہے۔
    آئی ایم ایف نے پاکستان کے کل عوامی اخراجات کا تخمینہ تقریباً 26.423 ٹریلین روپے لگایا ہے۔ اس میں سب سے بڑی تشویش قرضوں کی ادائیگی (Debt Servicing) ہے، جو اخراجات کا سب سے بڑا حصہ رہے گا۔ وفاقی حکومت قرضوں پر صرف سود کی ادائیگی کے لیے 7.824 ٹریلین روپے خرچ کرے گی۔ اس میں سے 6.652 ٹریلین روپے ملکی قرضوں جبکہ 1.107 ٹریلین روپے غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے درکار ہوں گے۔
    رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں دفاعی اخراجات ابتدائی تخمینے سے کچھ کم یعنی 2.564 ٹریلین روپے رہنے کی توقع ہے، تاہم اگلے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ بڑھا کر 2.665 ٹریلین روپے کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
    آئی ایم ایف کے یہ تازہ ترین تخمینے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کا ٹیکس اقدامات، خاص طور پر ایندھن پر عائد لیوی پر انحصار جاری رہے گا، جبکہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کے درمیان آئندہ بجٹ کی تیاریاں آئی ایم ایف کے وعدوں کے تحت کی جا رہی ہیں۔
    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر 11 نئی اسٹرکچرل بینچ مارکس عائد کر دی ہیں، جن میں مالی سال 2027 کے بجٹ کی پارلیمانی منظوری شامل ہے، جو آئی ایم ایف عملے کے ساتھ طے شدہ اہداف کے مطابق ہو۔ ان شرائط میں ششماہی گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، سالانہ بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اور قومی احتساب بیورو (نیب) کی خودمختاری اور شفافیت میں اضافہ بھی شامل ہے، جس کے لیے نیب آرڈیننس میں ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوں گی تاکہ اعلیٰ انتظامیہ کی تقرری کے لیے کھلا، میرٹ پر مبنی، سخت اور مسابقتی انتخابی عمل قائم کیا جا سکے۔
    اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) ایکٹ میں ترامیم نافذ کی جائیں گی، جن کے تحت موجودہ مالیاتی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا، منافع پر مبنی مراعات کے بجائے لاگت پر مبنی مراعات دی جائیں گی، اور بورڈ آف اپروول، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور موجودہ ایس ای زیڈ اتھارٹیز کے ٹیکس مراعات دینے کے اختیارات ختم کیے جائیں گے۔
    اسی طرح اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) ایکٹ میں بھی ترامیم کی جائیں گی تاکہ تمام موجودہ مالیاتی مراعات کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کیا جا سکے۔

    Related Posts

    انمول پنکی کے خلاف لاہور میں درج ایک اور ایف آئی آر منظر عام پر، اشتہاری قرار کیوں نہ دیا جاسکا؟

    سکھر میں اسٹریٹ لائٹس غائب، 100 فٹ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں جرائم بڑھنے لگے

    چین امریکا مذاکرات بھی بے فائدہ، تیل کی عالمی قیمتیں پھر بڑھنے لگیں

    مقبول خبریں

    انمول پنکی کے خلاف لاہور میں درج ایک اور ایف آئی آر منظر عام پر، اشتہاری قرار کیوں نہ دیا جاسکا؟

    چین امریکا مذاکرات بھی بے فائدہ، تیل کی عالمی قیمتیں پھر بڑھنے لگیں

    چاہتے ہیں نیوکلئیر ایرانی ہتھیار نہ ہوں،آبنائے ہرمز کھلی رہے، ٹرمپ، چینی گلابوں کےبیج تحفہ بھیجوں گا، صدر شی

    آئی ایم ایف کا بجٹ! عوام ہوشیار، گیس ،پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کا نیا طوفان

    ٹرمپ کے وکیل کی انٹری کے بعد گوتم اڈانی کے خلاف امریکی الزامات ختم : نیویارک ٹائمز ، مودی نے آپریشن سندور اڈانی کو بچانے کیلئے روکا، اپوزیشن

    بلاگ

    مکالمے کا فقدان

    خواتین کی شکایات پر فوری ایکشن، ڈی آئی جی آپریشنز کے بڑے فیصلے، پولیس افسران کیلئے سخت احکامات جاری

    سندھ، مہاجر اور مشترکہ تاریخ: محبت، قربانی اور سیاست کے درمیان ایک سفربرصغیر کی تقسیم

    انمول عرف پنکی کو درپردہ کس کی حمایت حاصل؟ کیس منطقی انجام تک پہنچے گا یا ایک اور فائل بند ہوگی!

    چھٹیوں کے سائے میں دم توڑتی تعلیم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.