واشنگٹن / اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے معاشی تخمینوں کی نئی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں عوام پر ایندھن اور ٹیکسوں کا مزید بوجھ بڑھنے کے واضح اور تشویشناک اشارے دیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے جاری اصلاحاتی پروگرام کے تحت تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق، ایندھن پر مبنی ٹیکسوں (پیٹرولیم لیوی) پر حکومت کا انحصار برقرار رہے گا اور آئندہ بجٹ میں اسے مزید بڑھایا جائے گا۔
آئی ایم ایف کی تشخیص کے مطابق، ایندھن سے متعلق ریونیو کی وصولی میں مزید اضافے کا قومی امکان ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، جاری مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1.468 ٹریلین روپے مقرر تھا، مگر اب وصولیاں اس ہدف سے تجاوز کر کے 1.546 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے تحت وصولیوں کا ہدف بڑھا کر 1.727 ٹریلین روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر خزانہ بھرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
ٹیکسوں کا بھاری ہدف اور گیس مہنگی ہونے کا امکان
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا کل ٹیکس وصولی کا ہدف اگلے مالی سال کے لیے 15.264 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس بھاری ہدف کو پورا کرنے کے لیے مختلف مد میں ٹیکس بڑھائے جائیں گے۔ تخمینے کے مطابق ڈائریکٹ ٹیکسوں سے 7.413 ٹریلین روپے، جبکہ سیلز ٹیکس سے 4.727 ٹریلین روپے جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ، وفاقی حکومت کی جانب سے گیس سرچارج کی وصولی میں بھی اضافے کی توقع ہے، جسے اگلے مالی سال میں بڑھا کر 151 ارب روپے تک لے جایا جائے گا۔ نان ٹیکس ریونیو، جو اس سال 3.702 ٹریلین روپے رہنے کی امید ہے، اگلے سال کم ہو کر 2.768 ٹریلین روپے پر آسکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے کل عوامی اخراجات کا تخمینہ تقریباً 26.423 ٹریلین روپے لگایا ہے۔ اس میں سب سے بڑی تشویش قرضوں کی ادائیگی (Debt Servicing) ہے، جو اخراجات کا سب سے بڑا حصہ رہے گا۔ وفاقی حکومت قرضوں پر صرف سود کی ادائیگی کے لیے 7.824 ٹریلین روپے خرچ کرے گی۔ اس میں سے 6.652 ٹریلین روپے ملکی قرضوں جبکہ 1.107 ٹریلین روپے غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے درکار ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں دفاعی اخراجات ابتدائی تخمینے سے کچھ کم یعنی 2.564 ٹریلین روپے رہنے کی توقع ہے، تاہم اگلے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ بڑھا کر 2.665 ٹریلین روپے کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے یہ تازہ ترین تخمینے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کا ٹیکس اقدامات، خاص طور پر ایندھن پر عائد لیوی پر انحصار جاری رہے گا، جبکہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کے درمیان آئندہ بجٹ کی تیاریاں آئی ایم ایف کے وعدوں کے تحت کی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر 11 نئی اسٹرکچرل بینچ مارکس عائد کر دی ہیں، جن میں مالی سال 2027 کے بجٹ کی پارلیمانی منظوری شامل ہے، جو آئی ایم ایف عملے کے ساتھ طے شدہ اہداف کے مطابق ہو۔ ان شرائط میں ششماہی گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، سالانہ بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اور قومی احتساب بیورو (نیب) کی خودمختاری اور شفافیت میں اضافہ بھی شامل ہے، جس کے لیے نیب آرڈیننس میں ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوں گی تاکہ اعلیٰ انتظامیہ کی تقرری کے لیے کھلا، میرٹ پر مبنی، سخت اور مسابقتی انتخابی عمل قائم کیا جا سکے۔
اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) ایکٹ میں ترامیم نافذ کی جائیں گی، جن کے تحت موجودہ مالیاتی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا، منافع پر مبنی مراعات کے بجائے لاگت پر مبنی مراعات دی جائیں گی، اور بورڈ آف اپروول، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور موجودہ ایس ای زیڈ اتھارٹیز کے ٹیکس مراعات دینے کے اختیارات ختم کیے جائیں گے۔
اسی طرح اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) ایکٹ میں بھی ترامیم کی جائیں گی تاکہ تمام موجودہ مالیاتی مراعات کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کیا جا سکے۔

