اسلام آباد : آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو امریکہ کی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیرِاعظم اور کابینہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق امریکہ میں قانونی کوششوں کی حمایت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی تھی اور ان کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔
آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کی۔ وفاق کی جانب سے دائر کی گئی ان اپیلوں میں 16 مئی 2025 کا حکم چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
وفاق کی جانب سے دائر اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم عدالتی اختیارات سے تجاوز اور طے شدہ مقدمات کی حیثیت کے منافی ہے۔ وفاق کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد نمٹائے گئے معاملے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔
درخواستوں میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ پہلے سے ہی ہائی کورٹ میں نمٹا دیا گیا تھا۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سے جڑا ہے۔
وفاق کا موقف ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عافیہ صدیقی کیس سے متعلق دائر کی جانے والی ترمیم شدہ درخواست میں رہائی اور وطن واپسی کے لیے حکومتی اقدامات کی آئینی ذمہ داری قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ فیڈریشن نے اپنی اپیل میں یہ موقف اختیار کیا کہ اکتوبر 2024 میں وزیرِاعظم نے امریکی صدر کو رحم کی اپیل کی حمایت میں خط لکھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد امریکا بھیجا گیا۔ وفاق کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی منتقلی سے متعلق معاہدوں کی کوششیں کی گئیں لیکن امریکی حکام نے قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان اپیلوں کی سماعت ملتوی کر دی۔
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے وزیرِاعظم،وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی روک دی

