تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
وزیر اعلیٰ مریم نواز کے وژن کے مطابق آئی جی پنجاب عبدالکریم صوبے بھر کے تھانوں میں شہریوں سے بہتر رویے اور فوری داد رسی کے دعوے کر رہے ہیں، مگر لاہور کے علاقے جھگیاں نگر میں جو کچھ ہوا وہ ان دعوؤں پر ایک تلخ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ یہاں ایک غریب اور ان پڑھ گھرانے کے لیے عزت بچانا جرم اور انصاف مانگنا سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ رشتہ دار آصف عرصے سے گھر میں گھس کر لڑکیوں کو ہراساں کرتا رہا، کبھی رات کے اندھیرے میں دیوار پھلانگ کر بستر تک پہنچ جاتا اور شور پر فرار ہو جاتا۔ خوف یہی تھا کہ اگر بات محلے تک پہنچی تو غریب کی واحد متاع عزت بھی لٹ جائے گی، اس لیے خاموشی کو مجبوری بنا لیا گیا۔ مگر جب آصف نے طاہرہ کو بھرے بازار میں سب کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا تو صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔ طاہرہ نے ہمت کر کے بھائی شبیر، رشتہ دار رفیق اور محلہ دار غفور کے ساتھ تھانہ نواں کوٹ کا رخ کیا۔ وہاں انصاف کے بجائے ریٹ لسٹ سامنے رکھ دی گئی۔ سب انسپکٹر بوٹا نے پورا واقعہ سننے کے باوجود جان بوجھ کر ادھوری اور کمزور درخواست تحریر کی، جسکا ایک ہزار اور مقدمہ درج کرنے کا دو ہزاردیا کیونکہ غریب لڑکی کی بڑی رقم دینے کی سکت نہیں رکھتی تھی۔ فائل یوں دبا دی گئی جیسے کوئی جرم سرے سے ہوا ہی نہ ہو۔
ملزم کو گرفتار کرنے کے بجائے پیشگی اطلاع دی گئی، جس نے فوراً عبوری ضمانت حاصل کر لی۔
اگلے دن دہائیوں پر کہیں جا کر مقدمہ تو درج ہوا، مگر تفتیش بھی رشوت کے بغیر چلنے سے انکار کر گئی۔ تفتیشی افسر اللہ دتہ نے پہلے غفور سے پانچ ہزار اور پھر بھائی شبیر سے ایک ہزار روپے وصول کیے۔ ادھر بااثر سیاسی سہاروں کے بل پر ملزم قانون کی گرفت سے پہلے ہی باہر تھا۔
جب متاثرہ خاندان نے انچارج انویسٹی گیشن راشد سے رجوع کیا تو انصاف کے بجائے تحقیر ملی۔ صاف کہہ دیا گیا کہ جو لکھ دیا گیا وہی کافی ہے، اب سچ جتنا بھی بڑا ہو، سنا نہیں جائے گا۔
طاہرہ ماتم کرتی رہی کہ اس نے عزت بچانے کے لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، مگر بدلے میں ذلت اس کا مقدر بن گئی۔ ملزم کھلے عام دھمکیاں دیتا رہا کہ جو کرنا ہے کر لو، کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔




