واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 کے تنازع کا ایک مرتبہ پھر ذکر کیا اور اس دوران مار گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد 10 کر دی ہے۔
فاکس بزنس کے ساتھ بدھ کو نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان کی طرح جوہری جنگ ہوتی۔ وہ واقعی اس میں جا رہے تھے، 10 طیارے مار گرائے گئے تھے۔‘
گذشتہ 10 مہینوں کے دوران صدر ٹرنپ نے متعدد بار کہا کہ انڈیا پاکستان جنگ کے دوران طیاروں کو مار گرایا گیا تھا یہ بتائے بغیر کے گرنے والے جہاز کس ملک کے تھے۔
ابتدائی طور پر انہوں نے پانچ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کیا تھا اور بعدازاں وہ یہ تعداد بڑھا کر اکتوبر میں 7 اور پھر نومبر میں 8 کر دی تھی۔
انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک کروڑ جانیں بچانے پر ان کی تعریف کی تھی۔
امریکی صدر نے زور دے کر کہا، ’کیونکہ، دیکھو، وہ جوہری (جنگ کی طرف) پر جا رہے تھے، ٹیرف کے بغیر، یہ (جنگ بندی) نہیں ہو سکتی تھی۔‘
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ایک مہلک دہشت گردانہ حملے کا الزام بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔
دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے جو مئی میں ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد سے ٹرمپ نے دونوں جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان فوجی کشیدگی کو ختم کرنے میں اپنے کردار کے بارے میں بارہا بات کی۔

