تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
لاہور میں سی سی پی او کے تبادلے سے متعلق زیرِ گردش تمام افواہیں باضابطہ طور پر دم توڑ گئیں جب اعلیٰ حکام کی جانب سے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کی واضح ہدایت جاری کر دی گئی۔ اس فیصلے نے نہ صرف پولیس حلقوں میں جاری بے یقینی کا خاتمہ کیا بلکہ انتظامی سطح پر پھیلی قیاس آرائیوں پر بھی فل اسٹاپ لگا دیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز سے سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کے حوالے سے خبریں مسلسل گردش میں تھیں، یہاں تک کہ ایک متوقع نئے سی سی پی او کو غیر رسمی طور پر مبارکبادیں بھی دی جا چکی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکم نامہ جاری ہونے سے قبل ایک اعلیٰ سطحی غیر سرکاری اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں لاہور کی آئندہ کرائم اسٹریٹجی، انتظامی فیوچر پلاننگ اور پولیس افسران کی ممکنہ ردوبدل کی فہرستوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ بعض افسران کو لاہور سے ہٹانے اور نئی ٹیم لانے کی تیاری بھی کی جا چکی تھی۔
تاہم جب اچانک بلال صدیق کمیانہ کو ہی کام جاری رکھنے کا حکم سامنے آیا تو اجلاس میں شریک حلقوں کو شدید حیرت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ لاہور آنے کے خواہشمند افسران کے تمام امکانات بھی ختم ہو گئے۔ انہی افواہوں کے باعث لاہور پولیس کے افسران اور ماتحت عملہ طویل عرصے سے بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھا، جس کا اثر بعض انتظامی فیصلوں اور فیلڈ آپریشنز کی رفتار پر بھی پڑ رہا تھا۔ اب اعلیٰ قیادت کے فیصلے کے بعد واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ بلال صدیق کمیانہ پر مکمل اعتماد برقرار ہے اور انہیں لاہور جیسے حساس اور اسٹریٹجک شہر کی کمان بدستور سونپی گئی ہے۔ بلال صدیق کمیانہ کو پولیس حلقوں میں ایک منجھے ہوئے، پروفیشنل اور سخت فیصلے کرنے والے افسر کے طور پر جانا جاتا ہے، جو نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ٹیم سے مؤثر انداز میں کام لینا بھی بخوبی جانتے ہیں۔
پولیس اور انتظامی ذرائع اس فیصلے کو تسلسلِ پالیسی اور جاری سکیورٹی حکمت عملی کا واضح اظہار قرار دے رہے ہیں۔ افواہوں کے خاتمے کے بعد لاہور پولیس کے اندر انتظامی فضا بحال ہونا شروع ہو چکی ہے جبکہ کرائم کنٹرول، ٹارگٹڈ آپریشنز اور شہری تحفظ سے متعلق اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی


