واشنگٹن : دنیا کے امیر ترین شخص اور ’اسپیس ایکس‘ (SpaceX) کے مالک ایلون مسک نے اپنی خلائی ترجیحات میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے اب مریخ کے بجائے چاند کو اپنا اولین ہدف قرار دے دیا ہے۔
مسک کے مطابق، ان کی کمپنی اب مریخ سے پہلے چاند پر شہر بسانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جو کہ آئندہ 10 برسوں سے بھی کم عرصے میں ممکن ہو سکتا ہے۔
مشن مون: نیا ٹائم لائن اور منصوبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک حالیہ پوسٹ میں ایلون مسک نے انکشاف کیا کہ اگرچہ مریخ پر شہر بسانے کا خواب اب بھی برقرار ہے اور اس پر کام 5 سے 7 سال میں شروع ہو جائے گا، لیکن فی الوقت تمام تر توانائیاں چاند کے لیے وقف کی جا رہی ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق مسک نے سرمایہ کاروں کو مریخ سے قبل چاند پر بستی بسانے کے فوائد سے آگاہ کر دیا ہے۔
پہلا بڑا سنگ میل رپورٹ کے مطابق، اسپیس ایکس نے مارچ 2027 تک چاند کی سطح پر بغیر عملے کے جہاز اتارنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل مسک 2026 کے آخر تک مریخ پر مشن بھیجنے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم اب چاند کی مہم کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ 1972 کے اپالو مشن کے بعد سے کوئی بھی انسان چاند کی سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکا ہے۔
چین سے مقابلہ اور خطیر سرمایہ کاری خلائی میدان میں امریکہ کو اس وقت چین کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، جو خود بھی اپنے خلاباز چاند پر بھیجنے کی تگ و دو میں ہے۔ اسی تناظر میں اسپیس ایکس نے حال ہی میں ایک تاریخی ڈیل (xAI Deal) کی منظوری دی ہے، جس کے تحت راکٹ سازی اور دیگر خلائی امور پر ایک ٹریلین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خلائی لباس اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے لیے 250 ارب ڈالر کا بھاری بجٹ الگ رکھا گیا ہے۔
ایلون مسک کا یہ بدلا ہوا رخ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مریخ کی طویل اور دشوار گزار مہم سے پہلے چاند کو ایک ’تربیتی مرکز‘ یا ’بیس کیمپ‘ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، تاکہ مستقبل میں سرخ سیارے (مریخ) تک رسائی زیادہ آسان اور محفوظ ہو سکے۔

