اسلام آباد:اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزام میں اب تک کم از کم چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے ہفتے کو بتایا ہے کہ ترلائی کے ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد میں ہونے والے دھماکے کے بعد مبینہ خودکش حملہ آور کے دو بھائیوں اور بہنوئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیاکو بتایا ہے کہ ’حملہ آور کا نام یاسر ہے جو گذشتہ برس مئی میں افغانستان‘ گیا تھا۔ حراست میں لیے جانے والے والےچاروں افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
خودکش حملے میں جاں بحق ہونیوالوں کی ہفتے کو ترلائی کلاں میں نماز جنازہ ادا کردی گئی ۔نماز جنازہ میں وفاقی وزراء طارق فضل چودھری، سردار محمد یوسف اور راجہ خرم نواز سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس، اے ٹی ایس، سی ٹی ڈی کی بھاری نفری تعینات تھی۔
نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد میتوں کو ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیے روانہ کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نماز جمعے کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہو گئے ہیں۔
پمز ہسپتال میں جو ڈیڈ باڈیز لائی گئیں ان میں کمسن بچے بھی شامل ہیں۔

