تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راؤ عبدالکریم نے صوبے کے سات حساس اضلاع میں ڈی پی اوز کی تعیناتی کا فیصلہ کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ میں ہلچل مچا دی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس بار سابق آئی جی ڈاکٹر عثمان انور کے پہلے سے تیار کردہ چند روایتی افسران کے پینل کو ایک طرف رکھ کر نئے اور متحرک افسران کے نام شامل کیے جا رہے ہیں، جسے پولیس حلقوں میں ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی حکمتِ عملی واضح ہے، سفارشی کلچر کو دفن کر کے صرف میرٹ، کارکردگی اور فیلڈ میں خود کو منوانے والے افسران کو آگے لایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خوشامدی چہروں کے بجائے سخت فیصلے کرنے کی شہرت رکھنے والے افسران پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔ ماضی کی روایت بھی اسی پالیسی کی عکاس رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ہمیشہ ان افسران کو اہم ذمہ داریاں دینے کی حامی رہی ہیں جنہوں نے نظم و ضبط، جرائم پر کنٹرول اور انتظامی صلاحیت میں خود کو ثابت کیا ہو۔ اس بار بھی امیدواروں کی سروس ہسٹری، فیلڈ ریکارڈ، بحران سے نمٹنے کی اہلیت اور عوامی اعتماد بحال کرنے کی صلاحیت کو مرکزی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد، ڈی پی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار کورس پر روانہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث یہ اہم نشستیں خالی ہوئیں۔ ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے ذاتی وجوہات پر تبادلے کی درخواست دے رکھی ہے، جبکہ شیخوپورہ، ساہیوال اور ملتان رینج کے ایک ایک ضلع میں بھی افسر کی تبدیلی تقریباً طے سمجھی جا رہی ہے۔
قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق جن افسران کے نام سنجیدگی سے زیرِ غور ہیں ان میں ایس ایس پی قاضی فاروق ایس ایس پی عمران ملک، ایس ایس پی عمران کھوکھر ، سی سی ڈی راولپنڈی کی ریجنل افسر بینش فاطمہ، ایس ایس پی کیپٹن (ر) دوست محمد، ایس ایس پی ٹریفک ندیم عباس، ، ایس ایس پی زنیرہ، ایس ایس پی ساجد کھوکھر، ایس ایس پی کامران عامر، ایس ایس پی اخلاق اللہ تارڑ اور ایس ایس پی شفیق احمد شامل ہیں۔
پولیس اور انتظامی حلقوں میں ان تعیناتیوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ اضلاع امن و امان، جرائم کی سرکوبی اور عوامی اعتماد کے حوالے سے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا واقعی میرٹ کی جیت ہوگی یا پھر روایتی دباؤ ایک بار پھر نظام پر حاوی ہو جائے گا۔ صوبے بھر کی نظریں وزیراعلیٰ پنجاب اور سلیکشن بورڈ کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں۔ جبکہ ”لاہور پولیس“ کو دو روز بعد بڑا سرپرائز ملے گا۔


