اسلام آباد :اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 31 سے زائد ہوگئی جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے 150 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے وہاں موجود افراد نے روکا جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وزیر مملکت طلال چوہدری کو پمز اسپتال پہنچنے کی ہدایت کی جس
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وزیر مملکت طلال چوہدری کو پمز اسپتال پہنچنے کی ہدایت کی جس کے بعد جس کے بعد انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔
ذرائع کے مطابق طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کے لیے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں شہادتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کے حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی، جس میں سیکیورٹی صورتحال اور واقعے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے ذمہ داران کے فوری تعین کا حکم دیا۔
ذرائع کے مطابق ایک عینی شاہد نے اس حوالے سے بتایا کہ دھماکے سے قبل فائرنگ ہوئی تھی جس کے فوراً بعد دھماکا ہوگیا۔



