لاہور (خصوصی رپورٹ): جیسے ہی گھڑی کی سوئیوں نے بارہ بجائے اور 6 فروری کی تاریخ بدلی، لاہور کے در و دیوار ‘بو کاٹا’ کے نعروں سے گونج اٹھے۔ 23 برس بعد سرکاری و عوامی سطح پر بسنت کی واپسی نے شہر کو ایک بار پھر روشنیوں اور رنگوں میں نہلا دیا ہے۔ لاہور کی چھتیں آباد ہو چکی ہیں اور آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں کا راج ہے۔
رات کے بارہ بجتے ہی جشن کا آغاز
لاہور کے قدیم علاقوں (اندرون شہر) سے لے کر جدید بستیوں تک، شہریوں نے چھتوں کا رخ کر لیا ہے۔
فلڈ لائٹس اور سرچ لائٹس کی مدد سے آسمان دودھیا روشنی میں نہا گیا ہے، جہاں سینکڑوں پتنگیں پیچے لڑاتی نظر آ رہی ہیں۔
میوزک اور ڈھول: چھتوں پر بڑے ساؤنڈ سسٹم نصب کیے گئے ہیں، جہاں لاہوری روایتی گانوں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ لاہور میں بسنت پر گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پابندی عائد تھی، جس کی بنیادی وجہ خونی ڈور اور اس سے ہونے والے حادثات تھے۔ تاہم، 2026 میں حکومتِ پنجاب نے سخت حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ اس تہوار کو دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
"یہ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ لاہور کی ثقافتی پہچان ہے جو 23 سال بعد لوٹ آئی ہے۔” — ایک پرجوش شہری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا،
Kites return to the skies of Lahore as Basant comes alive again after 25 years! A celebration of culture, colour, and community! Let’s enjoy the festivities together responsibly, follow all safety SOPs, and make this Basant safe for everyone ❤️ pic.twitter.com/0Ysvq2bY4O
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 5, 2026
حفاظتی اقدامات اور حکومتی سختی
جشن کے ساتھ ساتھ حکومت نے سیکیورٹی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں:
موٹر سائیکل سیفٹی راڈ: وزیراعلیٰ مریم نواز کے احکامات پر تمام موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
کیمیکل ڈور پر پابندی: دھاتی اور کیمیکل ڈور بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ ڈرونز کے ذریعے چھتوں کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ہوائی فائرنگ اور ممنوعہ ڈور کے استعمال کو روکا جا سکے۔
معاشی و سیاحتی اہمیت
بسنت کی واپسی سے جہاں شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، وہیں اس سے جڑے کاروباروں (پتنگ سازی، دھاگہ سازی اور فوڈ انڈسٹری) کو بھی بڑا فروغ ملا ہے۔ ہوٹلوں کی بکنگ مکمل ہو چکی ہے اور بیرونِ ملک سے بھی بڑی تعداد میں سیاح اس تاریخی جشن کا حصہ بننے کے لیے لاہور پہنچے ہیں۔
لاہور کی یہ رات ثابت کر رہی ہے کہ یہاں کے باسیوں کے دلوں سے بسنت کی محبت کبھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

