لاہور (رپورٹ ملک ظہیر)

اس کے بعد پولیس نے 24 جنوری کو مقدمہ درج کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ 16 ہزار روپے برآمد کیے گئے۔ مگر جب ایف آئی آر کا بغور مطالعہ کیا گیا تو نوٹوں کی تفصیل نے خود پولیس کے دعوے کو جھٹلا دیا، کیونکہ ایف آئی آر کے مطابق رقم صرف 3100 روپے بنتی تھی۔

25 جنوری کو ملزمان کے ورثا کو عدالت میں پیشی کے لیے بلایا گیا۔ عدالت میں جب ملزمان کے وکیل نے تفتیشی افسر سے گفتگو کے بعد ایف آئی آر، رقم کی ریکوری اور نوٹوں کی تعداد کا موازنہ کیا تو عدالت بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکی۔ نتیجتاً، ریکارڈ کی انہی “خدمات” کے صلے میں تمام ملزمان کو ڈسچارج کر دیا گیا۔
یہ واقعہ نہ صرف لاہور پولیس کی تفتیشی مہارت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس انصاف پر بھی جو راستے میں گم، تھانے میں کم اور ایف آئی آر میں شرمندہ ہو جائے۔
عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر یہی معیار ہے تو پھر جوا کلب بند کرنے کی کیا ضرورت؟ ملزمان خود ہی کم ہو جاتے ہیں اور کیس خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
لاہور پولیس کا یہ “جادو” واقعی قابلِ داد ہے
بس فرق اتنا ہے کہ جادو سرکس میں ہوتا ہے، تھانوں میں نہیں۔



