تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
فیصل آباد میں شادی کی خوشی اس وقت ایف آئی آر میں تبدیل ہو گئی جب تھانہ سٹی کی حدود میں ایک نجی تقریب کے دوران ساونڈ سسٹم ذرا زیادہ خوش ہو گیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر یہ طے کیا کہ خوشی کی آواز قانونی حد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے بعد پنجاب ساونڈ سسٹم (ریگولیشن) ایکٹ 2015 کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔ جبکہ قابل اعتراض اشیا بھی برآمد ہونے پر شرکا اور قابل اعتراض کپڑوں میں ملبوس خواتین ڈانسر پر بھی ایف آئی آر کے دی جس کے مطابق شہری محمد عمران اسلم پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے عوامی مقام پر بغیر اجازت اور مقررہ اوقات و حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ساونڈ سسٹم استعمال کیا، جس سے نہ صرف اہلِ علاقہ بلکہ “فیملیز” کے سکون میں بھی خلل پڑا ایف آئی آر میں فخش گانوں کے بول کا بھی ذکر کیا گیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ تقریب میں ڈھول، ڈی جے اور اسپیکرز کی آواز اس حد تک تھی کہ قانون نے خود کو غیر محفوظ محسوس کیا۔
مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 290، 291 اور 294 بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ پنجاب میں اب شور صرف فائلوں، بیانات اور جلسوں کا حق ہے، شادیوں کا نہیں۔



