کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خاران شہر میں مختلف راستوں سے داخل ہونے والے تقریباً 20 دہشتگردوں کا مقصد بینکوں کو لوٹنا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بینک لوٹنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خاران آپریشن کی قیادت کرنل ودان نے کی، جبکہ کارروائی کے دوران کرنل ودان اور میجر عاصم زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن میں 12 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، تاہم دہشتگرد نیشنل بینک پاکستان سے 34 لاکھ روپے اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگرد بلوچ نوجوانوں کو پروپیگنڈا ٹول کے ذریعے استعمال کر رہے ہیں اور خاران میں بلوچ عوام کے پیسے لوٹنے کے لیے داخل ہوئے تھے، مگر خاران کے عوام نے ان دہشتگردوں کو مسترد کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی فورسز اور پاک فوج کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے شہداء اور زخمی جوانوں کے خون کی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 900 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا اور دہشتگردوں کا سوشل مانیٹرنگ چیپٹر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ خاران میں کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت نے ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے ریاست کے دروازے کھول رکھے ہیں اور بلوچستان میں میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جا رہی ہیں، ساتھ ہی آن لائن ٹیسٹ سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تین ارب روپے کی لاگت سے بلوچستان کے تمام سرکاری اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں فائبر انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بولان قومی شاہراہ پر ترقیاتی کام کے باعث رات کے وقت بندش کی جاتی ہے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔
کوئٹہ، خاران شہر میں لوٹ مار کی کوشش ناکام، بنک لوٹنے آئے 12 دہشت گرد مارے گئے، وزیراعلیٰ سرفراز بگتی

