تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پنجاب پولیس کی ایک افسر کے وائرل کلپس نے اس ہفتے سوشل میڈیا، پولیس لائنز اور ایوانِ وزیراعلیٰ تینوں جگہ ایک ساتھ ہلچل چا دی۔ اے ایس پی شہر بانو نقوی کے پوڈکاسٹ اور بیانات پر مبنی وائرل ویڈیوز جہاں سوشل میڈیا صارفین کے لیے طنز و مزاح کا سامان بنیں، وہیں معاملہ بالآخر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے نوٹس تک جا پہنچا۔ وائرل کلپس میں قتل کیس کو ایک گھنٹے میں حل کرنے جیسے دعووں پر سوشل میڈیا صارفین نے پولیس تفتیش کو بھارتی ڈرامہ سی آئی ڈی سے جوڑ دیا۔ تبصروں میں کہا گیا کہ یہاں تو لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے پہلے ہی قاتل پکڑا گیا”، جبکہ کسی نے لکھا “اگر یہی رفتار رہی تو اے سی پی پردیومن کو ریٹائرمنٹ لینا پڑے گی۔ طنز کا یہ طوفان اس حد تک بڑھا کہ ویڈیوز محض کلپس نہیں بلکہ میمز، ریلز اور اسکرین شاٹس کی شکل میں ہر پلیٹ فارم پر گردش کرنے لگیں۔ معاملہ جب حد سے بڑھا تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سوشل میڈیا پر وائرل پوڈکاسٹ کلپ کا نوٹس لیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو فوری انکوائری اور مناسب ایکشن کی ہدایت جاری کر دی۔ سرکاری حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ کا مؤقف واضح ہے کہ وردی میں موجود افسر کی عوامی گفتگو، دعوے اور انداز محض ذاتی تشہیر نہیں بلکہ پوری فورس کے وقار سے جڑے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب آئی جی پنجاب کی جانب سے ممکنہ فیصلے پر پولیس افسران میں چہ مگوئیاں عروج پر ہیں۔ پولیس لائنز اور واٹس ایپ گروپس میں سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا سوشل میڈیا پر یونیفارم میں ویڈیوز اپلوڈ کرنے کی باقاعدہ اجازت دی جائے گی یا پھر اس "پوڈکاسٹ کلچر” پر مکمل بریک لگے گی۔ کچھ افسران کا خیال ہے کہ نئی پالیسی کے تحت وردی میں بیانات کو ریگولیٹ کیا جائے گا، جبکہ بعض اسے سوشل میڈیا سے مکمل دوری کا عندیہ قرار دے رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا صارفین پہلے ہی اس ممکنہ پالیسی پر طنز کے تیر برسا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، اگر پابندی لگ گئی تو اب کیس وردی میں نہیں، سادہ کپڑوں میں حل ہوں گے، جبکہ دوسرے نے کہا پولیس کو بولنے سے پہلے اسکرپٹ اور بعد میں ڈرامہ ایڈیٹنگ بھی ملے گی؟
فی الحال تمام نظریں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے فیصلے پر جمی ہیں۔ آیا یہ معاملہ ایک افسر تک محدود رہے گا یا پنجاب پولیس کے سوشل میڈیا رویے کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گا. اس کا جواب تو انکوائری کے بعد ہی سامنے آئے گا، مگر اتنا طے ہے کہ یہ کیس صرف قتل کا نہیں، بلکہ وردی، وائرل کلپس اور وائرل پالیسی کا بن چکا ہے۔



