دبئی/واشنگٹن: تاریخ میں پہلی بار کلاؤڈ انفراسٹرکچر جنگ کا براہِ راست نشانہ بن گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں واقع ایمیزون ویب سروسز (AWS) کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر پر ایرانی حملے کے دوران میزائلوں یا ڈرونز کے ٹکڑے آ گرے، جس کے بعد دنیا کی قیمتی ترین ڈیجیٹل تنصیبات میں سے ایک "بلیک آؤٹ” کا شکار ہو گئی۔
یہ انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کسی عالمی ‘ہائیپر اسکیلر’ (Hyperscaler) کے ڈیٹا سینٹر کو جنگ کے دوران ہدفبنا یا گیا ہو۔
ایمیزون نے اسے "میزائل حملہ” کہنے کے بجائے مبہم الفاظ میں "Objects Struck” (اشیاء کا ٹکرانا) قرار دیا، کیونکہ عالمی کارپوریٹ دنیا کے پاس اس طرح کے جنگی منظر نامے کے لیے اب تک کوئی لغت ہی موجود نہیں تھی۔
دفاعی تنصیب یا سویلین اثاثہ؟: ’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق اس ڈیٹا سینٹر کو اسرائیلی فوج بھی استعمال کر رہی تھی۔ اگر یہ سچ ہے، تو اب دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز سویلین اثاثوں کے بجائے باقاعدہ ‘فوجی اہداف’ (Military Targets) بن چکے ہیں۔
اب تک ڈیٹا سینٹرز کی سیکیورٹی کا مطلب ‘بایومیٹرک لاک’ اور ‘باڑ’ تھا، لیکن اب کمپنیوں کو ‘بیلسٹک میزائل ڈیفنس’ کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کلاؤڈ ریجنز کا انتخاب محض ایک کاروباری فیصلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک تزویراتی جنگی حساب کتاب بن چکا ہے۔

