تہران : (اسد مرزا )آبنائے ہرمز محض ایک آبی راستہ نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت کی ضمانت ہے۔ اس کی بندش کا مطلب ہے کہ دنیا بھر کی معیشت آئی سی یو میں چلی جائے گی۔
یادرہے سعودی عرب قطر،متحدہ عرب امارات کا پیداکردہ 90 فیصدتیل اسی آبنائے ہرمز سے دنیا تک پہنچتا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بھارت ہے جس کو ملنے والا 85 فیصد تیل اسی روٹ سے درآمد ہوتا ہے ۔60 فیصد خلیجی ممالک سے بھارت خریدتا ہے جبکہ ایک ہفتہ بھی آبنائے ہرمز مزید بند رہی تو بھارت میں تیل کی قیمتیں راکٹ کی طرح اوپر جائیں گی۔ فیکٹریاں بند ہوجائیں گی، کارخانے پیداوار روک دیںگے لاکھوں نہیں کروڑوں بےروزگار ہوں گے اور معیشیت وینٹی لیٹر پر ہوگی۔ دوسرا شدید متاثر ہونے والا ملک چین ہوگا جو روزانہ تقریبا 10 ملین بیرل تیل استعمال کرتا ہے اور یہ سب درآمد کیا جاتا ہے۔ چین کو درآمد کی جانے والی 40 فیصد تیل کی مصنوعات اسی آبنائے ہرمز سے گذرتی ہیں۔ چین اپنی ضرورت کا تیل روس اور سنٹرل ایشیا سے بذریعہ پائپ لائنز بھی حاصل کرتا ہے لیکن وہ اس کی ضرورت کا محض 20 فیصد ہی پورا کرپاتی ہیں۔ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد چین کی معشیت کو ایسا دھچکا لگے گا جس سے سنبھلنا مشکل ہوگا۔ اور اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جائیں گے، تیسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک جاپان ہے جو اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل خریدتا ہے وہ اسی آبنائے ہرمز سے ہی گذرتا ہے۔ چوتھا ملک جو سب سے زیادہ متاثر ہوگا وہ ہے سعودی عرب جس کا 80 تا 90 فیصد نکالے جانیوالا تیل آبنائے ہرمز سے گذر کر دنیا تک پہنچتا ہے۔صرف 10 فیصد سعودی تیل بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی سے یورپ پہنچتا ہے۔ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے سعودی عرب کی 80 تا 90 فیصد آمدنی رک جائے گی۔ اگر سعودی عرب سے بزور طاقت آبنائے ہرمز کھولنے کی کوشش کی تو صورت حال تشویشناک ہوجائے گی، پانچواں متاثرہ ملک ہوگا پاکستان جس کی ضرورت کا 90 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گذر کر آتا ہے۔پاکستان کے معاملے میں ملکی تیل کی90فیصد سے زائددرآمدات خلیج کے ممالک سے آتی ہیں اور یہ سب اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔پاکستان میں خوراک کی مہنگائی میں 30سے40فیصد تک اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔بندش جاری رہی تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں طوفانی اضافہ ہوگا۔مگر یہاں ایک دلچسپ موڑ ہے کہ پاکستان کی سرحد ایران کے ساتھ لگتی ہے اور پاکستان اپنی ضرورت کا 35 فیصد ڈیزل بذریعہ زمینی اسمگلنگ اور بحری اسمگلنگ براستہ گوادر ایران سے حاصل کررہا ہے۔اگر مجبور کیا گیاتو پاکستان اپنی ضرورت کا تیل پھر ایران سے حاصل کرے گا۔ چھٹا متاثر ہونے والا ملک متحد ہ عرب امارات ہے جس کا 72 فیصد تیل آبنا ئے ہرمزسے گذر کر بکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کیا ہے؟ (What is the Strait of Hormuz)
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ شمال میں ایران اور جنوب میں عمان و متحدہ عرب امارات (UAE) کے درمیان واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے عراق، کویت، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
طول (Length): یہ آبنائے تقریباً 167 کلومیٹر (90 ناٹیکل میل) طویل ہے۔
عرض (Width): اس کی چوڑائی سب سے کم مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر (21 میل) ہے۔
بحری جہازوں کے آنے اور جانے کے لیے صرف دو میل چوڑے راستے (Shipping Lanes) مخصوص ہیں، جن کے درمیان دو میل کا بفر زون رکھا گیا ہے تاکہ بڑے ٹینکرز آپس میں نہ ٹکرائیں۔
آبنائے ہرمز کو "عالمی تیل کی سپلائی لائن” اس لئےکہا جاتا ہے۔ کیونکہ خام تیل (Crude Oil)روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل یہاں سے گزرتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں سمندری راستے سے ہونے والی کل تیل کی تجارت کا تقریباً 20% سے 30% بنتا ہے۔
یہاں سے صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ڈیزل، جیٹ فیول، اور گیسولین (Refined Products) بھی منتقل کیے جاتے ہیں۔
ایل این جی (LNGNatural Gas) کا تقریباً 20% حصہ، خاص طور پر قطر سے، اسی راستے سے گزرتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے خام تیل کی قیمت چند ہی دنوں میں 150 ڈالر سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں پیٹرول کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔
دنیا کے بڑے صنعتی ممالک بشمول چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا اپنے تیل کی ضرورت کا 80% اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں۔ اس کی بندش سے ان ممالک میں صنعتیں بند اور بجلی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آئے گا جو پوری دنیا کو معاشی مندی (Recession) میں دھکیل دے گا۔ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے خوراک اور دیگر اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں (CENTCOM) کا یہ دیرینہ موقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ کسی بھی ایسی کوشش کی صورت میں امریکہ براہِ راست ایران کے خلاف اپنی بحری قوت (جیسے کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن) کا استعمال کرے گا، جو کہ ایک ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

