تہران+ریاض+دبئی : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے شعلے اب عالمی معیشت کی شہ رگ تک پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی ڈرونز نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع سعودی آرامکو کی اہم ترین تنصیب راس تنورہ (Ras Tanura) کو نشانہ بنایا ہے، جو دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے اور ریفائننگ مراکز میں سے ایک ہے۔
حملے کا رخ راس تنورہ کی ریفائنری اور اسٹوریج ٹینکوں کی طرف تھا، جہاں دھماکوں کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیج کے اطراف امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی کارروائیوں نے عالمی توانائی کی ترسیل کے نظام میں خلل ڈال دیا ہے جس کے سبب پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق تاجروں کو خدشہ ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے تیل کی فراہمی سست ہو جائے گی یا مکمل طور پر رک سکتی ہے۔ خطے بھر میں حملوں، بشمول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو جہازوں پر حملوں، نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی دنیا کے دیگر حصوں کو تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر حملے طویل عرصے تک جاری رہے تو خام تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
سی ایم ای گروپ کے اعداد و شمار کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ پیر کی صبح تقریباً 72 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جو جمعہ کے تقریباً 67 ڈالر کے مقابلے میں 7.3 فیصد زیادہ ہے۔
برینٹ خام تیل پیر کی صبح 78.55 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جو جمعہ کے 72.87 ڈالر کے مقابلے میں 7.8 فیصد زیادہ ہے۔
جمعہ کو برینٹ کی قیمت سات ماہ کی بلند ترین سطح پر تھی۔
عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین کو پیٹرول اور اشیائے خوردونوش سمیت دیگر سامان کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوگا جب بہت سے لوگ پہلے ہی بلند افراطِ زر کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔
ریسٹڈ انرجی کے مطابق، روزانہ تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ بیرل خام تیل، جو دنیا کے کل تیل کا تقریباً 20 فیصد ہے، آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل ہوتا ہے، جس سے یہ دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ بن جاتی ہے۔ اس آبنائے سے گزرنے والے ٹینکر، جس کے شمال میں ایران واقع ہے، سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے تیل اور گیس لے کر جاتے ہیں۔
ایران نے فروری کے وسط میں فوجی مشق کے نام پر عارضی طور پر آبنائے کے کچھ حصے بند کر دیے تھے، جس کے بعد آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
اس پس منظر میں، اوپیک پلس کے آٹھ رکن ممالک نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ خام تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں گے۔ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم نے کہا کہ وہ اپریل میں روزانہ 2 لاکھ 6 ہزار بیرل پیداوار بڑھائے گی، جو تجزیہ کاروں کی توقعات سے زیادہ ہے۔ پیداوار بڑھانے والے ممالک میں سعودی عرب، روس، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان شامل ہیں

