تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
ملک اس وقت ایک ایسے جھوٹے بیانئیے کے دبیز دھوئیں میں لپٹا ہوا تھا جسے بیرونِ ملک بیٹھے چند مخصوص چہرے مسلسل ہوا دے رہے تھے۔ ان افراد نے باریک واردات ڈالتے ہوئے خطرناک عزائم کے تحت عوام میں یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ حکومت اور پاک فوج کے درمیان کوئی غیرعلانیہ کشیدگی موجود ہے۔
یہ کیمپ ان اُمیدوں پر پل رہا تھا کہ ابہام، افواہوں اور فرضی کہانیوں کے ذریعے ریاستی اداروں میں عدم اعتماد پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مگر آج، وہ تمام کوششیں ایک سرکاری فیصلہ، ایک نوٹیفکیشن اور ایک حقیقت کے سامنے ریزہ ریزہ ہو رہی ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ اُن تمام عناصر کے لئے کڑا جواب ہے جو ریاست اور ملک کے سب سے مضبوط ادارے کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کے مشن پر تھے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کی مدتِ ملازمت پہلے ہی 5 سال مقرر کی جا چکی تھی، اس لیے قانونی طور پر کسی نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت موجود ہی نہیں تھی۔ مگر سازشی بیانیہ پھیلانے والوں کے لئے حقیقت کبھی اہم نہیں رہی صرف اپنی ویڈیوز کے ویوز، اپنے آقاؤں کی خوشنودی اور اپنی جھوٹی پیش گوئیوں کا شور ہی ان کا ایجنڈا تھا۔ یہ چند اینکرز اور یوٹیوب propagandists مسلسل ایسی گمراہ کن باتیں پھیلاتے رہے جن کا مقصد قومی اداروں کو نشانہ بنانا تھا۔ اب وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے آج باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اُن کا پورا بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا۔ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک تقریب منعقد کی جائے گی۔ یہ تقریب محض ایک رسمی اقدام نہیں بلکہ ایک علامتی اعلان ہوگا کہ ریاست اپنی جگہ کھڑی ہے مضبوط، منظم، اور متحد۔
یہ پیغام بھی واضح ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کبھی دیرپا نہیں ہوتا، جھوٹ وقتی شور مچا سکتا ہے مگر سچ ہمیشہ دیر سے سہی، پوری طاقت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اور آج، وہ سچ سامنے آ چکا ہے۔


