واشنگٹن :سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنائی کی جاسوسی کر رہی تھی۔سی آئی اے کو انٹیلیجنس ملی کہ ہفتے کی صبح آیت اللہ خامنائی اعلی ایرانی عہدیداران کیساتھ اہم میٹنگ کرنے جا رہے ہیں ۔سی آئی نے اپنی انٹیلیجنس جس میں آیت اللہ خامنائی کی لوکیشن بارے اعلی درستگی پائی جاتی تھی اسرائیل سے شیئر کی۔ پہلے اسرائیل اور امریکا کا ارادہ رات کے وقت حملے کا تھا لیکن ہفتے کی صبح میٹنگ کی اطلاع ملنے پر دونوں نے دن کے وقت حملے کا وقت ایڈجسٹ کر لیا۔

ہفتے کی صبح 6 بجے چند امریکی جنگی جہاز تل ابیب سے نکلے جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے انتہائی جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے لیس تھے ۔ طیاروں کے اُڑان بھرنے کے دو گھنٹے اور پانچ منٹ بعد، یعنی تہران کے وقت کے مطابق صبح تقریباً 9:40 پر آیت اللہ خامنائی کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایاگیا۔ اوریکے بعد دیگرے 30 انتہائی مہلک اور زمین کی گہرائی میں جا کر پھٹنے والے بم پھینکے گئے۔ حملے کے وقت ایرانی قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کمپاؤنڈ کی ایک عمارت میں موجود تھے، جبکہ سپریم لیڈر خامنہ ای ساتھ ہی دوسری عمارت میں موجود تھے۔حملے میں آیت اللہ خامنائی موقع پر شہید ہو گئے ۔ وہاں موجود ایرانی دفاعی نظام کے عہدیداران علی شمخانی،محمد پاکپور،عامر ناصر زادہ بھی شہید ہو گئے۔امریکہ نے خامنائی کے ساتھ ساتھ دیگر ایرانی ملٹری کمانڈرزاور عہدیداروں کی لوکیشنز پربھی حملے کیے لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے ۔خوفناک بات یہ ہےکہ سی آئی اے کو اسی سورس نے آیت اللہ کی لوکیشن بتائی جسکی ریکی پراس نے جون میں ایرانی شخصیات کونشانہ بنایاتھا۔وہ جاسوس چھ ماہ بعد بھی ایرانی حکومت کا حصہ ہے لیکن ایرانی انٹیلجنس اسکوپکڑنے میں ناکام رہی ہے۔یہ واقعہ امریکی بدمعاشی کیساتھ ایرانی انٹیلیجنس ناکامی کابھی منہ بولتا ثبوت ہے۔


