واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مابین ایران کے خلاف جاری کشیدگی، ممکنہ فوجی کارروائیوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔
معروف امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے تہران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکی وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے فوری بعد ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں، تاہم اس کے برعکس صدر ٹرمپ فی الحال سفارتی عمل کو مزید کچھ وقت دینے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اس مکالمے کو ایک اسرائیلی عہدیدار کی جانب سے ’سخت‘ اور ایک امریکی عہدیدار کی طرف سے ’بظاہر براہِ راست‘ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع اور جنگ کے اثرات کے نتیجے میں امریکہ کے اندر پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی نے صدر ٹرمپ کے لیے شدید سیاسی دباؤ پیدا کر دیا ہے، اور آنے والے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں عام امریکی ووٹرز اس معاشی صورتحال پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کر سکتے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس وقت اچھے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی حکام پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ معاہدہ کر کے مکر جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو معاہدہ کرنا ہو گا ورنہ امریکہ جلد معاملا نمٹا دے گا، وہ لوگوں کی جانیں بچانے کے خواہا ہیں لیکن ایک مرحلے پر سخت کارروائی کرنا ناگزیر ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، جبکہ توانائی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل امریکہ کے پاس ہے اور کینیڈا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے۔
ٹرمپ یاہو کا ٹیلیفونک رابطہ،اہم تبادلہ خیال،ایران نے معاہدہ نہ کیا توامریکامعاملہ جلد نمٹا دے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

