واشنگٹن: امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں 13.5 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکہ میں فعال (ایکٹو) ہندوستانی طلبہ کی کل تعداد کم ہو کر 316,893 رہ گئی ہے۔ اس گراوٹ کے باوجود ہندوستان اب بھی امریکہ میں غیر ملکی طلبہ بھیجنے والا سرِ فہرست ملک برقرار ہے۔
اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ طلبہ کی تعداد میں یہ کمی بنیادی طور پر ماسٹرز سطح کے کورسز میں پیش آئی ہے، جہاں داخلوں میں تقریباً 20 فیصد تک کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے؛ ماسٹرز کے طلبہ کی تعداد 292,929 سے کم ہو کر 234,034 پر آ گئی ہے۔
صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے طلبہ پر بھی اس کا اثر پڑا ہے؛ مثلاً چین کے طلبہ کی تعداد میں 10.2 فیصد جبکہ نیپال اور دیگر ممالک کے طلبہ کے اندراج میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ایس ای وی آئی ایس (SEVIS) ڈیٹا بیس میں درج بین الاقوامی طلبہ کی مجموعی تعداد میں تقریباً 7.1 فیصد کمی آئی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس رجحان کے پیچھے سخت ویزا اسکروٹنی (جانچ پڑتال)، اختیاری عملی تربیت (OPT) اور ایس ٹی ای ایم (STEM) سے متعلق مجوزہ پالیسی تبدیلیاں اور سیاسی بیانات کلیدی محرکات کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

