پیرس:
فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، اخراجاتِ زندگی میں ہوشربا اضافے اور تعلیمی نظام کے مسائل کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہرے شدید پُرتشدد شکل اختیار کر گئے ہیں۔ حکام اور وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کے پاداش میں 1,800 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں اکیلے دارالحکومت پیرس میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد 850 کے قریب ہے۔
یہ احتجاج بنیادی طور پر طلبہ، نوجوانوں اور مختلف یونینز کی جانب سے تعلیمی اداروں کے ناکافی بجٹ، تعلیمی معیار میں کمی اور ملک میں روز افزوں مہنگائی کے خلاف شروع کیا گیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گیا۔
پیرس، مارسی، لیون اور ٹولوز سمیت فرانس کے کئی بڑے شہروں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان گھمسان کی جھڑپیںہوئیں۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے سرکاری املاک، گاڑیوں، ٹاؤن ہالز اور تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔ ان پرتشدد واقعات کے دوران سیکڑوں پولیس اہلکار اور فائر فائٹرز بھی زخمی ہوئے جبکہ حکومتی اور نجی املاک کو کروڑوں کا نقصان پہنچا۔
فرانسیسی حکومت نے امن عامہ کی بحالی کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات نافذ کر دیے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں اور طلبہ سے پرامن رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

