نئی دہلی/بیجنگ: بھارت اور چین کے درمیان متنازع ہمالیائی سرحد (لائن آف ایکچوئل کنٹرول – LAC) پر ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خصوصی طور پر اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔
عسکری ذرائع کے مطابق، چینی افواج (PLA) کی جانب سے سرحدی پٹی پر عسکری بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جدید تیاریوں کے بعد زمینی سطح پر محاذ آرائی میں شدت آئی ہے۔ اروناچل پردیش کے حساس سرحدی سیکٹرز مثلاً آصافیلا (Asaphila)، تاکسنگ اور لونگجُو کے علاقوں میں دونوں افواج کے درمیان کشیدہ صورتحال برقرار ہے۔
بھارتی دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ چینی افواج کی جانب سے عسکری انفراسٹرکچر میں تیز رفتار ترقی اور مورچہ بندی کی وجہ سے روایتی دفاعی حکمت عملی کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے اعلیٰ سطحی سفارتی اور عسکری مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سرحد کے بعض حصوں پر کشمکش اور فوجی تناؤ بدستور قائم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی تنازعات کے دیرپا حل کے لیے مزید مؤثر اور سنجیدہ سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

